بنگلہ دیش میں فوجی ٹھکانوں پر ’یاسین باہنی‘ کا حملہ، سڑکیں توڑ کر راستہ کیا بند، کیمپ پر چلایا بلڈوزر

AhmadJunaidJ&K News urduMay 26, 2026358 Views


’پرتھم آلو‘ کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش آر اے بی-7 کے کمانڈنگ افسر لیفٹیننٹ کرنل حافظ الرحمٰن نے بتایا کہ شرپسندوں نے اچانک کیمپ کو نشانہ بنا کر فائرنگ شروع کر دی۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

i

user

google_preferred_badge

بنگلہ دیش کے چٹگاؤں ضلع کے جنگل سلیم پور علاقہ میں ایک بار پھر شدید کشیدگی دیکھنے کو ملی ہے۔ دیر رات مسلح شرپسندوں نے بنگلہ دیش کی ریپڈ ایکشن بٹالین (آر اے بی) کے ایک تربیتی کیمپ اور دیگر ڈھانچوں پر حملہ کر دیا۔ الزام ہے کہ حملہ آوروں نے بلڈوزر کے ذریعہ کیمپ کے بعض حصوں کو نقصان پہنچایا اور سیکورٹی فورسز کو روکنے کے لیے کئی مقامات پر سڑکیں بھی کھود ڈالیں۔

’دی بزنس اسٹینڈرڈ‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب تقریباً 2 بجے چٹگاؤں کے سیتا کنڈ ذیلی ضلع کے جنگل سلیم پور کے علی نگر علاقے میں پیش آیا۔ ریپڈ ایکشن بٹالین کے مطابق حملہ پہلے سے منصوبہ بند تھا اور اس کے پیچھے ’یاسین باہنی‘ نامی مسلح گروہ ملوث تھا۔ واقعہ کے بعد آر اے بی، پولیس اور آرمڈ پولیس بٹالین نے مشترکہ کارروائی کی، جس کے دوران کئی افراد کو حراست میں لیا گیا۔

’پرتھم آلو‘ کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش آر اے بی-7 کے کمانڈنگ افسر لیفٹیننٹ کرنل حافظ الرحمٰن نے بتایا کہ شرپسندوں نے اچانک کیمپ کو نشانہ بنا کر فائرنگ شروع کر دی۔ انہوں نے کہا کہ جوانوں نے بھی اپنے دفاع میں جوابی فائرنگ کی۔ ان کے مطابق حملہ آوروں نے اضافی سیکورٹی فورسز کو موقع پر پہنچنے سے روکنے کے لیے کئی مقامات پر سڑکیں اور پل بھی کھود ڈالے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 7 گھنٹے کی سخت کوشش کے بعد حالات پر قابو پا لیا۔ بنگلہ دیش ٹریبیون کے مطابق اگرچہ کئی حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب رہے، تاہم 15 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ جنگل سلیم پور کو کافی عرصے سے مسلح گروہوں اور زمینوں پر قبضہ کرنے والے گروپوں کا مضبوط مرکز تصور کیا جاتا رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس علاقے میں تقریباً 3,100 ایکڑ سرکاری زمین موجود ہے۔ برسوں سے یہاں مجرمانہ گروہوں کا اثر و رسوخ قائم رہا ہے۔ اسی علاقے پر قابو پانے کے لیے بنگلہ دیشی حکومت کافی عرصے سے کوشش کر رہی ہے۔ 2017 اور 2022 میں بھی علاقے کو خالی کرانے کی کوششیں کی گئی تھیں، لیکن مقامی مخالفت اور دیگر رکاوٹوں کی وجہ سے وہ مہمات کامیاب نہیں ہو سکی تھیں۔

رواں سال 9 مارچ کی بات ہے جب فوج، آر اے بی، پولیس اور بی جی بی کے تقریباً 3,200 اہلکاروں نے علاقے میں مشترکہ کارروائی کی تھی۔ اس دوران بھی علی نگر میں داخل ہونے سے پہلے سڑک پر ایک ٹرک کھڑا کر کے راستہ بند کر دیا گیا تھا۔ بعد میں سیکورٹی فورسز نے ٹرک ہٹایا، لیکن کچھ فاصلے پر معلوم ہوا کہ سڑک کا پل توڑ دیا گیا تھا۔ تاہم کارروائی کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے پر کنٹرول قائم کر لیا تھا۔ اس کے بعد وہاں آر اے بی اور پولیس کے 2 تربیتی مراکز اور کیمپ بنانے کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق تازہ حملہ اسی زیر تعمیر کیمپ کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...