مغربی بنگال میں ’مشتبہ غیر ملکیوں‘ کے لیے حراستی مراکز قائم کرنے کی ہدایت، بنگلہ دیشی اور روہنگیا خصوصی طور پر نشانے پر

AhmadJunaidJ&K News urduMay 25, 2026359 Views


مغربی بنگال کی نومنتخب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے تمام ضلع مجسٹریٹ کو ’مشتبہ غیر قانونی غیر ملکیوں‘ کے لیے ہولڈنگ سینٹر قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس  میں خصوصی طور پر بنگلہ دیشی شہریوں اور روہنگیا کا ذکر کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ قدم وزارت داخلہ کی ہدایات کے تحت اٹھایا جا رہا ہے۔

مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

کولکاتہ: مغربی بنگال کی نومنتخب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے تمام ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ’مشتبہ غیر قانونی غیر ملکیوں اور ملک بدری یا واپسی کے منتظر غیر ملکی قیدیوں‘ کے لیے ہولڈنگ سینٹر قائم کریں۔ اس میں خصوصی طور پر بنگلہ دیشی اور روہنگیا کا ذکر کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ قدم وزارت داخلہ کی ہدایات کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ دی وائر نے اس سال کے آغاز میں رپورٹ کیا تھا کہ 23 جنوری 2026 کو آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں مرکزی وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ اس کے پاس ملک میں ’دراندازوں‘ کی شناخت، گرفتاری یا ملک بدری سے متعلق کوئی سینٹرلائزڈاعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔

محکمہ داخلہ و پہاڑی امور کی جانب سے جاری ایک سرکاری نوٹس کے مطابق، اضلاع سے کہا گیا ہے کہ وہ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی شناخت کر کے انہیں رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کریں؛ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنی جیل کی سزا مکمل کر چکے ہیں اور اب ملک بدری کے منتظر ہیں۔ اس ہدایت میں حکام کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ ہندوستان میں غیر قانونی طور پر مقیم بنگلہ دیشی شہریوں اور روہنگیا افراد کی ملک بدری اور واپسی کے معاملات میں وزارت داخلہ کے طے شدہ فریم ورک کے مطابق ہی کام کریں۔

مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کئی بار کہا تھا کہ وہ بنگال سے ’مسلم غیر ملکیوں‘ اور ’بنگلہ دیشی دراندازوں‘ کو نکال باہر کریں گے۔

دسمبر 2025 میں ادھیکاری نے کولکاتہ میں بنگلہ دیش کے نائب ہائی کمیشن تک ایک احتجاجی مارچ کی قیادت کی تھی، جہاں انہوں نے صحافیوں سے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کو ’وہی سبق سکھایا جانا چاہیے جو اسرائیل نے غزہ کو سکھایا تھا۔‘

دی وائر پہلے بھی یہ ذکر کر چکا ہے کہ ادھیکاری نے بغیر کسی ثبوت کے دعویٰ کیا تھا کہ 1.5 کروڑ ’درانداز‘ موجود ہیں۔ بی جے پی کی انتخابی مہم میں ’بنگلہ دیشی دراندازوں‘ کا ایشو ترجیحی طور پر اٹھایا گیا تھا۔

اس کے علاوہ، اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے الیکشن کمیشن کی جانب سے چلائی گئی ایس آئی آر مہم کے تحت نام حذف کیے جانے کا اثر بنیادی طور پر مسلمانوں پر پڑا ہے، خاص طور پر سرحدی علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں پر۔ اس سے یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ کہیں ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کا مطلب ان افراد کی بالآخر بنگال سے بے دخلی تو نہیں ہے۔

اب تک نہ تو الیکشن کمیشن اور نہ ہی مرکزی وزارت داخلہ نے یہ تعداد بتائی ہے کہ ایس آئی آر مہم کے دوران بنگال میں کتنے ’دراندازوں‘ کی شناخت کی گئی۔

ایس آئی آر مہم شروع ہونے سے پہلے بھی ہندوستان کے مختلف حصوں سے بنگلہ بولنے والے مسلم مہاجر مزدوروں کو ان کی شہریت کی مناسب جانچ کے بغیر بنگلہ دیش بھیجے جانے کے واقعات سامنے آ چکے تھے۔

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن نے مئی میں کہا تھا کہ ’اگر مغربی بنگال میں اقتدار کی تبدیلی کے دوران زبردستی دھکیلنے (پش اِن) کے واقعات پیش آتے ہیں تو ڈھاکہ کارروائی کرے گا۔‘

اس سے پہلے ادھیکاری نے ریاستی پولیس حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجرین کو عدالتی کارروائی کو نظر انداز کرتے ہوئے ’براہِ راست‘ بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے حوالے کر دیں۔

ہندوستان-بنگلہ دیش سرحد پر سلی گوڑی سب ڈویژن کے پھانسی دیوا علاقے میں باڑ لگانے کا کام بھی شروع ہو چکا ہے، کیونکہ بنگال حکومت نے 27 کلومیٹر زمین بارڈر سکیورٹی فورس کے حوالے کر دی ہے – ایسا قدم جسے سابقہ آل انڈیا ترنمول کانگریس حکومت  نےٹال رکھا تھا۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...