سجاد لون کے بعد میر واعظ کو بھی اپنے والد کی برسی کے موقع پر خراج عقیدت پیش کرنے سے روکا گیا، نظر بندی کا الزام

AhmadJunaidJ&K News urduMay 22, 2026360 Views


میر واعظ عمر فاروق نے الزام لگایا ہے کہ انہیں اپنے والد کی برسی کے موقع پر خراج عقیدت پیش کرنے سے پہلے نظر بند کر دیا گیا۔ اس سے قبل جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون نے بھی ایسا ہی الزام عائد کیا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اسے جابرانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے لوگوں کے جذبات اور تاریخ کو مٹایا نہیں جا سکتا۔

میرواعظ نے کہا کہ لوگوں کو عیدگاہ میں واقع مزار شہداء جا کر شخصی طور پر فاتحہ پڑھنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ (تصویر: پی ٹی آئی/فائل)

نئی دہلی: جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون کو اپنے والد کی قبر پر خراج عقیدت پیش کرنے سے روکے جانے کے بعد میرواعظ عمر فاروق نے جمعہ کو الزام لگایا کہ جب وہ اپنے والد کی برسی پر خراج پیش کرنے کی تیاری کر رہے تھے تو انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔

سجاد لون سری نگر میں واقع شہداء کے مزار پر جا کر اپنے والد عبدالغنی لون کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہتے تھے۔ اس کے علاوہ پارٹی کی جانب سے ہندواڑہ دفتر میں ایک یادگاری تقریب بھی منعقد کی جانی تھی، جسے بعد میں رد کر دیا گیا۔

سجاد لون نے ایکس پر لکھا،’میں آج اپنے ساتھیوں کے ساتھ شہیدوں کے قبرستان جا کر اپنے والد عبدالغنی لون کے لیے فاتحہ پڑھنے والا تھا، جنہیں 22 سال پہلے 21 مئی کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ لیکن صبح سویرے پولیس آئی اور مجھے بتایا گیا کہ مجھے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ ‘

دوسری جانب میرواعظ عمر فاروق نے بھی اپنے والد مولوی محمد فاروق کی برسی پر خراج عقیدت پیش کیا اور بتایا کہ انہیں بدھ کی شام سے ہی گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے عبدالغنی لون کو بھی یاد کیا۔

میرواعظ نے کہا، 21 مئی کشمیر کی تاریخ کے سب سے دردناک دنوں میں سے ایک کی یاد دلاتا ہے۔ اسی دن لوگوں نے اپنے محبوب رہنما شہید ملت میرواعظ مولوی فاروق کو کھو دیا تھا۔ اس کے بعد ہونے والے تشدد میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ آج بھی لوگوں کے اجتماعی حافظے کا حصہ ہے۔ برسوں بعد اسی دن ایک اور باشعور آواز کو  خاموش کر دیا گیا، جب خواجہ عبدالغنی لون ہم سے چھین لیے گئے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ’دھمکی، طاقت کے مظاہرے اور میڈیا پر کنٹرول‘ کے ذریعے لوگوں کو اپنے رہنماؤں اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے سے روکنا افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

میرواعظ نے کہا کہ لوگوں کو عیدگاہ میں واقع مزار شہداء جا کر ذاتی طور پر فاتحہ پڑھنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا،’میں خود کل شام سے نظر بند ہوں۔ جابرانہ ہتھکنڈے نہ حقیقت بدل سکتے ہیں اور نہ ہی ان رہنماؤں کی خدمات اور لوگوں کے دلوں میں ان کی جگہ کو مٹا سکتے ہیں۔‘

جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی دونوں رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی’اعلیٰ ترین قربانی‘جموں و کشمیر کے تئیں ان کی وابستگی اور خدمات کی یاد دلاتی ہے۔

محبوبہ نے کہا،’جب ہم انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں تو ہم اپنے آئینی حقوق کی بحالی، باعزت اور مستقل امن، اور خوف و دباؤ سے آزاد فلاحی نظام کے قیام کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔‘



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...