
دریں اثناء ایران نے تصدیق کی ہے کہ وہ نئی امن تجویز کا جائزہ لے رہا ہے لیکن اب تک اس نے اپنے موقف میں کسی طرح کی کوئی نرمی نہیں دکھائی۔ ایران کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز کہا کہ ایران کے 14 نکاتی تجویز کی بنیاد پر مذاکرات جاری ہیں۔ ’ایکسیوس‘ کی رپورٹ میں امریکی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا کہ ثالث ممالک ایک لیٹر آف انٹینٹ (ارادے کا خط) تیار کر رہے ہیں۔ اس دستاویز پر امریکہ اور ایران دونوں دستخط کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد 30 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہو گا جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کو کھولنے جیسے مسائل پر بات چیت کی جائے گی۔






