باقی چھ ملزمین کو بھی ہائی کورٹ سے ضمانت ملی

AhmadJunaidJ&K News urduMay 20, 2026359 Views


الہ آباد ہائی کورٹ نے سوموار کو وارانسی میں گنگا ندی  کے بیچ کشتی پر ’افطار‘ کرنے اور مبینہ طور پر ہڈیاں ندی میں پھینکنے کے باقی چھ ملزمین کو بھی ضمانت دے دی۔ اس سے پہلے 15 مئی کو عدالت نے چودہ میں سے آٹھ ملزمین کو ضمانت دی تھی۔

وارانسی میں گنگا۔ (تصویر: شروتی شرما / دی وائر)

نئی دہلی:الہ آباد ہائی کورٹ نے سوموار (18 مئی) کو گنگا ندی کے بیچ کشتی پر’افطار‘کرنے اور مبینہ طور پر بریانی کھا کر ہڈیاں ندی میں پھینکنے کے الزام میں جیل میں بند دیگر چھ ملزمین کو بھی ضمانت دے دی۔

بار اینڈ بنچ کی خبر کے مطابق، یہ فیصلہ جسٹس راجیو لوچن شکلا کی بنچ نے دیا۔ اس سے پہلے 15 مئی کو اسی بنچ نے پانچ اور جسٹس جتیندر کمار سنہاکی بنچ نے تین ملزمین کی ضمانت منظور کی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ ملزمین نے اپنے کیے کی  معافی مانگی ہے۔

باقی چھ ملزمین کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے جسٹس راجیو لوچن شکلا نے کہا کہ اسی جرم میں آٹھ ملزمین کو 15 مئی کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے، اس لیے موجودہ درخواست گزار بھی ضمانت پانے کے اہل ہیں۔

معلوم ہو کہ اس سے پہلے وارانسی کی نچلی عدالت نے ان تمام 14 ملزمین کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد انہوں نے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

اس معاملے کی سماعت کے دوران جسٹس راجیو لوچن شکلا کی بنچ نے یہ بھی کہا تھا کہ گنگا صرف ہندوؤں کی ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے عقیدے کی علامت ہے۔

عدالت نے کہا،’ملزمین کے حلف نامے کے پیرا 14 میں درج بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنے اعمال پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کے اہل خانہ کو بھی سماج کو پہنچنے والی تکلیف پر افسوس ہے۔‘

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انوپ ترویدی کی اس تشویش پر کہ افطار پارٹی کا انعقاد، ویڈیو کا اپلوڈ ہونا اور مذہبی منافرت پھیلانے کے لیے اس کا استعمال ایک بڑی سازش کا حصہ ہے، عدالت نے کہا کہ ملزمین کو جیل میں رکھے بغیر بھی آگے کی تفتیش جاری رہ سکتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ 17 مارچ سے جیل میں بند ملزمین نے افسوس کا اظہار کیا ہے اور آئندہ ایسا کوئی عمل نہ کرنے کا عہد بھی کیا ہے۔ ساتھ ہی، معاملے کے حقائق و حالات، ملزمین کا کوئی مجرمانہ پس منظر نہ ہونا، پہلے سے گزاری گئی حراست کی مدت، اور ان کی جانب سے مانگی گئی معافی کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ ضمانت کا معاملہ بنتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ان نوجوانوں کو حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی تنظیم بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے لیڈررجت جیسوال کی شکایت کی بنیاد پر 17 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ رجت جیسوال نے ان نوجوانوں پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔

ایف آئی آر درج کروانے والے بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے عہدیدار کا کہنا تھا،’مسلم نوجوانوں کی جانب سے جس طرح گنگا جی میں گوشت کا استعمال کیا گیا ہے… یہ ہم تمام سناتن دھرم کے پیروکاروں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ ہم اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔‘

جیسوال نے اس وقت پولیس کو دی گئی اپنی شکایت میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس حرکت کے ذریعے ’مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے یہ نوجوان جان بوجھ کر ایک ’جہادی سوچ‘کو فروغ دے رہے ہیں۔‘

اس کے بعد’نامعلوم افراد‘کے خلاف یہ ایف آئی آر بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) 2023 کی دفعات 298 (کسی بھی عبادت گاہ کی جان بوجھ کر بے حرمتی کرنا)، 299 (مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے ارادے سے بدنیتی پر مبنی عمل)، 196(1)(بی)(مذہب، ذات وغیرہ کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی بڑھانا)، 270 (عوامی فساد)، 279 (عوامی آبی ذخیرے کے پانی کو آلودہ کرنا) اور 223(بی)(سرکاری احکامات کی خلاف ورزی) کے تحت، نیز آبی آلودگی روک تھام و کنٹرول ایکٹ 1974 کی دفعہ 24 کے تحت درج کی گئی تھی۔

اس معاملے میں آٹھ ملزمین کو ضمانت ملنے کے بعد رجت جیسوال نے دی وائر سے کہا تھا کہ ہائی کورٹ نے بہت اچھا فیصلہ دیا ہے۔ ان 14 مسلم نوجوانوں کو اب ایک سبق ملے گا، اور سماج میں بھی ایک اچھا پیغام گیا ہے کہ انہوں نے جو غلطیاں کیں اور ہندوؤں اور سناتن دھرم کے تئیں ان کے دل میں جس طرح کے جذبات ہیں، اب انہیں انتظامیہ کا خوف رہے گا۔

جیسوال نے مزید کہا تھا کہ اگر ان میں تبدیلی نظر نہیں آئے گی تو ہم مزید سخت کارروائی کریں گے۔

غور طلب ہے کہ اس معاملے سے متعلق وائرل ویڈیو کی جانچ میں آلٹ نیوزکو ندی  کے پانی میں ہڈیاں پھینکے جانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...