’جیو پولیٹیکل کشیدگی سے اتنا خوف نہیں، جتنا اچانک اُٹھےکسی صحافی کے ہاتھ سے ہے‘

AhmadJunaidJ&K News urduMay 20, 2026358 Views


اب سفارت کاری کا دائرہ صرف ممالک تک محدود نہیں رہا تھا ، اب اس میں ’شبیہ کے تحفظ‘ کا ایک نیا پہلو بھی شامل ہو چکا تھا۔ خارجہ پالیسی کو غیر رسمی طور پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ پہلا، دنیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے رکھنا۔ دوسرا، دنیا کو یہ یقین دلاتے رہنا کہ کوئی پریشان کن سوال دراصل پریشان کن تھا ہی نہیں۔

’اب بیرون ملک دوروں کی تیاریاں بھی بدل چکی تھیں۔ پہلے اجلاسوں میں یہ طے ہوتا تھا کہ کن معاملات پر معاہدے ہوں گے اور کن ممالک کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔ اب سب سے طویل اجلاس اس سوال پر ہوتا تھا کہ صحافی کتنی دور بیٹھیں گے۔‘ (تصویر: پی آئی بی / السٹریشن: پری پلب چکروورتی / دی وائر)

’دنیا بھر میں قابل تعظیم جمہوریہ‘ کی وزارت خارجہ میں ان دنوں غیر معمولی ہلچل ہے۔ وجہ کوئی جنگ نہیں،اور نہ کسی ملک نے تجارتی معاہدہ توڑا ہے، اور نہ ہی کسی بین الاقوامی فورم پر کوئی سفارتی بحران پیدا ہوا ہے۔ اصل بحران اس سے کہیں زیادہ حساس اور خوفناک سمجھا جا رہا ہے کہ ’مہامانو‘ کے بیرون ملک دوروں کے دوران ’ناگوارسوالوں‘ کے امکانات کا مینجمنٹ۔

وزارت کے سینئر افسران کے مطابق، ایک وقت تھا جب سفارت کاری نسبتاً سہل ہوا کرتی تھی۔ اس وقت خارجہ سروس کا مطلب تھا، ممالک کے درمیان اعتماد قائم کرنا، تجارتی معاہدے کرنا، توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانا،سرحدی کشیدگی کو متوازن رکھنا، اور بحران میں پھنسے ہندوستانیوں کو بہ حفاظت واپس لانا۔ کام مشکل تھا، مگر اس میں وقار تھا؛ تناؤ تھا، مگر مقصد قومی مفاد تھا۔

لیکن وقت بدل چکا تھا۔ اب سفارت کاری کا دائرہ صرف ممالک تک محدود نہیں رہا تھا۔ اب اس میں ’شبیہ کے تحفظ‘ کا نیا پہلو شامل ہو چکا تھا۔ خارجہ پالیسی کو غیر رسمی طور پر دو حصوں میں بانٹ دیا گیا تھا۔ پہلا، دنیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے رکھنا۔ دوسرا، دنیا کو یہ یقین دلاتے رہنا کہ کوئی پریشان کن سوال دراصل پریشان کن تھا ہی نہیں۔

اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت خارجہ کے تربیتی ادارے میں حال ہی میں ایک نیا نصاب شروع کیا گیا تھا، جس کے ماڈیول کا نام تھا ’دی آرٹ آف ڈائیلاگ ودآؤٹ آنسرز‘ یعنی ’جواب کے بغیر مکالمے کا فن‘۔ اس کورس میں نوجوان افسران کو سکھایا جاتا تھا کہ اگر کوئی غیر ملکی صحافی ایسا سوال پوچھ لے جس کا جواب دینا سیاسی طور پر خطرناک ہو، تو چہرے پر مسکراہٹ کیسے برقرار رکھی جائے۔ پہلے باب کا عنوان تھا؛’خاموشی: جمہوری اعتماد کا اعلیٰ ترین اظہار‘

دوسرے باب میں افسران کو یہ تربیت دی جاتی تھی کہ سوال کا جواب دیے بغیر جواب دینے کا بھرم کیسے پیدا کیا جائے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی صحافی پوچھے،’وزیراعظم اس مسئلے پر کیا کہیں گے؟‘

تو مثالی جواب ہوگا-’ہندوستان عالمی امن، جامع ترقی اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے لیے پُرعزم ہے۔‘

’ہندوستان نے یوگا کے ذریعے دنیا کو ایک نئی سمت دی ہے۔‘ وغیرہ وغیرہ۔

اگر صحافی بدقسمتی سے دوبارہ وہی سوال پوچھ لے، تو زیر تربیت افسر کو فوراً ’وسودھیو کٹمبکم‘، ’نوآبادیاتی ذہنیت‘، ’ہندوستان کی بڑھتی ہوئی عالمی ساکھ‘، ’تہذیبی بیانیہ‘ اور ’وشوگرو کے کردار‘ جیسے الفاظ کا تزویراتی استعمال کرنا ہوتا تھا، تاکہ اصل سوال راشٹر وادی یعنی قوم پرستانہ دھند میں فطری طور پر گم ہو جائے۔

وزارت کی راہداریوں میں ایک سینئر افسر ان دنوں اکثر افسردہ دکھائی دیتے تھے۔ ایک دن انہوں نے اپنے جونیئر ساتھی سے کہا،’بیٹا، ہم نے فارن سروس اس لیے جوائن کی تھی کہ دنیا میں ہندوستان کا موقف مضبوطی سے پیش کریں گے۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ ایک دن ہمارا سب سے اہم کام پریس کانفرنس میں صحافیوں اور وزیراعظم کے درمیان کرسیوں کا فاصلہ ناپنا ہوگا۔‘

اب غیر ملکی دوروں کی تیاریاں بھی بدل چکی تھیں۔ پہلے اجلاسوں میں یہ طے ہوتا تھا کہ کن معاملات پر معاہدے ہوں گے، کن ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری بڑھے گی، اور کن موضوعات پر مشترکہ اعلامیہ جاری ہوگا۔ اب سب سے طویل میٹنگ اس سوال پر ہوتی ہے کہ صحافی کتنی دور بیٹھیں گے، کتنے سوال لیے جائیں گے، اور سب سے اہم یہ کہ’کیا سوال پوچھنے کے امکان کو شائستگی کے ساتھ ختم کیا جا سکتا ہے؟‘


ذرائع کے مطابق، وزارت میں حال ہی میں ایک نئی یونٹ بھی قائم کی گئی ہے’رسک اسسمنٹ سیل۔‘ اس سیل کا بنیادی کام ممکنہ صحافیوں کی فہرست تیار کرنا اور یہ اندازہ لگانا ہے کہ کون سا صحافی جمہوریت کو حد سے زیادہ سنجیدگی سے لینے کی عادت میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ ایک خفیہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ’سب سے خطرناک صحافی وہ پائے گئے ہیں جو سوال پوچھنے کے بعد جواب سننے کی بھی ضدکرتے ہیں۔‘


رپورٹ میں یہ بھی ذکر تھا کہ بعض غیر ملکی صحافیوں میں بے ادبی کی حد تک تجسس یعنیبے لگام تجسس‘کی علامات پائی گئی ہیں۔ ایسے عناصر پریس کانفرنس کے دوران ضمنی سوال پوچھنے کی جسارت کر سکتے ہیں، جس سے منظم جمہوری ماحول میں غیر ضروری بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔

ان خطرات کے درمیان وزارت خارجہ کے افسران نے اجتماعی طور پر حکومت کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا ہے۔ میمورنڈم میں درج ذیل خصوصی سہولیات کا مطالبہ کیا گیا ہے؛

’ اکورڈ مومنٹ مینجمنٹ الاؤنس ‘

’کیمرہ فلیش ذہنی توازن اسکیم‘

’سوال ٹالو ترغیبی الاؤنس‘

اور ہر غیر ملکی دورے کے بعد لازمی

’جمہوری بحالی کی چھٹی‘

ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ،’اب ہمیں دہشت گردی، سرحدی تنازعات اور جیو پولیٹیکل کشیدگی سے اتنا خوف نہیں لگتا جتنا اچانک اٹھنے والے کسی صحافی کے ہاتھ سے لگتا ہے۔‘


صورتحال اتنی بدل چکی تھی کہ وزارت میں بہادری کی تعریف بھی بدل گئی تھی۔ پہلے یہ جرأت سمجھی جاتی تھی کہ مشکل مذاکرات میں ملک کا موقف مضبوطی سے پیش کیا جائے۔ اب بہادری یہ مانی جاتی ہے کہ کوئی افسر پریس کانفرنس ختم ہونے کے بعد بھی کتنا مسکراتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

ذرائع کے مطابق، حکومت نے ان مطالبات پر غور کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی اس موضوع پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے کہ کیا’مہامانو کی شبیہ کے تحفظ‘کو باضابطہ طور پر خارجہ پالیسی کا’لازمی جز‘قرار دے دیا جائے۔ کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ،’جب قوم اور فرد کی شبیہ ایک ہو جائے، تو سفارت کاری اور تعلقات عامہ کے درمیان لکیر کا دھندلا جانا ایک فطری تاریخی عمل بن جاتا ہے۔‘


تاہم، وزارت کے کچھ پرانے افسران اب بھی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید کبھی وہ دور واپس آئے گا جب غیر ملکی دوروں کی سب سے بڑی فکر یہ ہوتی تھی کہ معاہدہ کامیاب ہوگا یا نہیں، نہ کہ یہ کہ کہیں کوئی صحافی واقعی سوال پوچھنے کی بھول تو  نہیں کر بیٹھے گا۔

تب تک وزارت خارجہ اپنے نئے فرائض پوری وفاداری سے انجام دے رہی ہے، دنیا کو یہ سمجھانے میں کہ جمہوریت میں مکالمہ ضروری ہے، بشرطیکہ مکالمہ صرفایک سمت‘میں رواں ہو۔

منوج کمار جھا راشٹریہ جنتا دل کے راجیہ سبھاایم پی ہیں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...