وزیر اعظم مودی کے ناروے کے دورے کے دوران میڈیا سے متعلق سوالوں کو لے کر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ اوسلو میں ناروے کے وزیر اعظم جونس گار اسٹور کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ناروے کی خاتون صحافی ہیلے لنگ نے سوال پوچھنے کی کوشش کی۔ دونوں لیڈران کے خطاب کے بعد جب وزیر اعظم مودی وہاں سے نکل رہے تھے، تبھی ہیلے لنگ نے بلند آواز میں پوچھا کہ دنیا کے سب سے آزاد پریس سے سوال لینے میں آخر کیا پریشانی ہے۔ حالانکہ وزیر اعظم مودی نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا اور پروگرام کے مقام سے آگے بڑھ گئے۔
خاتون صحافی نے ناروے کی پریس فریڈم رینکنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک پریس فریڈم انڈیکس میں سرفہرست مقام پر ہے، جبکہ ہندوستان کی رینکنگ 157 بتائی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے سوال پوچھنا صحافت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ حالانکہ اب ہیلے لنگ کے ارادوں پر ہی سوال کھڑے ہونے لگے ہیں۔ ہیلے لنگ نے اس واقعہ کے بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کئی پوسٹ شیئر کیں۔ انہوں نے کہا کہ پریس انٹریکشن کے دوران سوال پوچھنے کی کوشش کی تھی، حالانکہ انہیں امید نہیں تھی کہ وزیر اعظم براہ راست جواب دیں گے۔ ہیلے لنگ کا کہنا ہے کہ صحافت کئی بار تصادم آمیز بھی ہو سکتی ہے اور رپورٹرز کا کام صرف بیان سننا نہیں، بلکہ براہ راست جواب حاصل کرنا بھی ہوتا ہے۔
ہیلے لنگ کے مطابق اگر عوامی عہدوں پر بیٹھے لوگ سوالوں سے بچتے ہیں تو صحافی واضح جواب حاصل کرنے لیے درمیان میں مداخلت بھی کر سکتے ہیں۔ خاتون صحافی نے بتایا کہ بعد میں انہوں نے اس ویڈیو کا کمنٹ سیکشن بند کر دیا، جس میں یہ پریس انٹریکشن دکھایا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابتدائی پریس میٹنگ میں بھی صحافیوں کو سوال پوچھنے کا موقع ملنا چاہیے تھا۔ وزیر اعظم مودی اور ناروے کے وزیر اعظم دونوں ممالک کے درمیان ہوئی شراکت داریوں کے بارے میں معلومات دے رہے تھے۔ یہ ویسی پریس کانفرنس نہیں تھی، جس میں عموماً سوال پوچھے جاتے ہیں۔ حالانکہ صحافی کا دعویٰ ہے کہ ان سوالات کے براہ راست جواب نہیں ملے۔
دوسری جانب ہندوستانی وزارت خارجہ نے ہیلے لنگ کے واقعہ کا نوٹس لیا۔ انہیں اپنی پریس بریفنگ میں بھی بلایا۔ لیکن اس دوران معاملہ مزید گرما گیا۔ ہیلے لنگ نے وہاں بھی مسلسل سوال پوچھے اور ہندوستانی افسران سے انسانی حقوق اور پریس کی آزادی کے حوالے سے جوابات مانگے۔ صحافی نے سوال کیا کہ ناروے کو ہندوستان پر بھروسہ کیوں کرنا چاہیے اور کیا ہندوستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جائے گا؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا وزیر اعظم مودی تنقیدی سوالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ جب ہندوستانی وزارت خارجہ کے سکریٹری (مغربی خطہ) سبی جارج نے اس پورے تنازعہ پر ردعمل دینا شروع کیا تو ہیلے لنگ نے انہیں ٹوکنا شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جواب دے رہے ہیں، لیکن خاتون صحافی نے مداخلت جاری رکھی۔ جارج نے ہندوستان کی جمہوریت اور آئینی نظام کا دفاع کیا۔
قابل ذکر ہے کہ ہیلے لنگ ناروے کے باوقار اخبار ’ڈاگس ایویسن‘ سے وابستہ ہیں۔ یہ اخبار سماجی اور سیاسی موضوعات پر آزادانہ رائے رکھنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس سے قبل وہ ’نیٹاویسن‘ میں بطور رپورٹر کام کر چکی ہیں۔ انہوں نے امریکی سیاست اور انتخابات کی کوریج بھی کی ہے۔ تنازعہ بڑھنے کے بعد سوشل میڈیا پر ہیلے لنگ کے بارے میں کئی طرح کے الزامات عائد کیے گئے۔ کچھ صارفین نے تو انہیں چین کا حامی تک قرار دے دیا کیونکہ انہوں نے چین کی تعریف میں کئی مضامین لکھے ہیں۔ چین کے صدر شی جنپنگ کو سپر ہیرو اور چین کو سپر پاور بتانے والے مضامین کے اسکرین شاٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگے۔ دوسری طرف وہ امریکہ کی برائی کرتی ہوئی بھی دکھائی دی ہیں۔ انہوں نے چین کی الیکٹرک گاڑیوں کو ایلن مسک کی کمپنی ٹیسلا سے بہتر بتایا ہے۔ ٹرمپ کے بارے میں بھی ان کے تبصرے وائرل ہو رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اپنی شناخت اور نیت کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات پر بھی ہیلے لنگ نے ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں کبھی نہیں لگا تھا کہ انہیں یہ کہنا پڑے گا کہ وہ کسی غیر ملکی حکومت کی جاسوس نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کا کام صرف صحافت کرنا ہے اور فی الحال وہ بنیادی طور پر ناروے میں کام کر رہی ہیں۔ دراصل ہیلے لنگ کا ’ایکس‘ اکاؤنٹ گزشتہ 2 سال سے غیر فعال تھا۔ لیکن وزیر اعظم مودی سے سوال پوچھنے کے بعد ان کے بارے میں بحث شروع ہو گئی۔ ہیلے لنگ نے بتایا کہ انہوں نے اور ان کے ایک ساتھی نے ہندوستان میں انسانی حقوق سے متعلق مسائل پر بھی سوالات پوچھے تھے۔ ان کے مطابق انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ انسانی حقوق کے معاملات میں ہندوستان پر بھروسہ کیوں کیا جانا چاہیے؟

































