کانگریس کا بی جے پی پر دلت اور پسماندہ مخالف ہونے کا الزام

AhmadJunaidJ&K News urduMay 18, 2026362 Views


اتر پردیش میں 69 ہزار اساتذہ بھرتی تنازعہ پر کانگریس نے بی جے پی حکومت کو دلت اور پسماندہ مخالف قرار دیا۔ متاثرہ امیدوار برسوں سے تقرری اور ریزرویشن کے حق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

i

user

google_preferred_badge

لکھنؤ کی شدید گرمی کے درمیان 69 ہزار معاون اساتذہ بھرتی معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ کانگریس نے اتر پردیش کی بی جے پی حکومت پر دلت اور پسماندہ طبقوں کے ساتھ ناانصافی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ریزرویشن کے اصولوں کو نظر انداز کر کے ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل کو متاثر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں کئی امیدوار سڑکوں پر لیٹ کر آگے بڑھتے اور احتجاج کرتے نظر آئے، جس کے بعد یہ معاملہ مزید گرم ہوگیا۔

احتجاج کرنے والے امیدواروں کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے انصاف کے لیے در بدر بھٹک رہے ہیں لیکن ان کی کوئی سنوائی نہیں ہو رہی۔ کئی نوجوانوں نے الزام لگایا کہ چونکہ وہ دلت اور پسماندہ سماج سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے ان کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔ امیدواروں کے مطابق انہوں نے امتحان اور تمام مراحل مکمل کیے مگر تقرری اب تک نہیں ہو سکی۔

کانگریس نے سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش حکومت نے 69 ہزار اساتذہ بھرتی میں ریزرویشن گھوٹالہ کیا، جس کے سبب دلت، پسماندہ اور دیگر محفوظ طبقات کے ہزاروں امیدوار متاثر ہوئے۔ پارٹی نے کہا کہ یہ نوجوان گزشتہ کئی برسوں سے نوکری کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں لیکن حکومت ان کے مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے معاملے کو ٹالتی رہی ہے۔ کانگریس نے دعویٰ کیا کہ یہی بی جے پی حکومت کا اصل چہرہ ہے جو پسماندہ طبقات کو ان کا حق نہیں دینا چاہتی۔

یہ پورا تنازعہ دسمبر 2018 میں نکلی 69 ہزار معاون اساتذہ کی بھرتی سے جڑا ہے۔ امتحان جنوری 2019 میں ہوا تھا جبکہ نتیجہ 2020 میں جاری کیا گیا۔ اسی دوران امیدواروں نے الزام لگایا کہ بھرتی میں ریزرویشن قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔ ان کے مطابق دیگر پسماندہ طبقات کو 27 فیصد ریزرویشن کے بجائے صرف 3.86 فیصد حصہ دیا گیا، جبکہ درج فہرست ذات کے امیدواروں کو بھی مقررہ کوٹے سے کم نشستیں ملیں۔

امیدواروں کا کہنا ہے کہ اس بے ضابطگی کے باعث تقریباً 19 ہزار نشستوں پر غلط طریقے سے تقرریاں کی گئیں، جس سے ہزاروں اہل امیدوار محروم رہ گئے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے اگست 2024 میں پرانی میرٹ فہرست کو منسوخ کرتے ہوئے حکومت کو نئی فہرست جاری کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم ریاستی حکومت نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ اس معاملے کو اب تقریباً سات سال گزر چکے ہیں، لیکن متاثرہ امیدوار اب بھی تقرری کے انتظار میں ہیں۔


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...