
قابل ذکر ہے کہ ’بہار اسٹیٹ برج کنسٹرکشن کارپوریشن‘ نے اپنے مطالعے میں جن 9 پلوں کی خامیوں کی نشاندہی کی ہے، انہیں فوری طور پر درست کرنے کا کام بھی شروع کیا جائے گا۔ یہ تمام پل کافی پرانے ہیں۔ ان سب کی مرمت کے لیے الگ سے ٹینڈر نکالے جائیں گے۔ محکمہ کی سطح پر افسران کو پہلے ہی یہ ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ آئی آئی ٹی کی تیار کردہ رپورٹ پر سختی سے عمل کیا جانا چاہیے۔ خاص بات یہ ہے کہ آئی آئی ٹی پٹنہ کے ذریعے جن پلوں کا اسٹرکچرل آڈٹ کرایا گیا ہے، یہ تمام 60 میٹر سے زیادہ لمبائی والے ہیں۔ 60 میٹر سے کم لمبائی والے پلوں کی دیکھ بھال، مینٹیننس پالیسی کے تحت متعلقہ سڑک پر کام کرنے والی کمپنی کے ذریعے کرائی جاتی ہے۔





