امریکی دفتر برائے سرکاری اخلاقیات میں جمع کرائی گئی تفصیلات کے مطابق صدر اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو ایک ہزار ڈالر سے زیادہ مالیت کے کسی بھی شیئر لین دین کی اطلاع 45 دن کے اندر دینا ضروری ہوتی ہے۔ تاہم ٹرمپ مقررہ مدت کے اندر یہ معلومات فراہم نہ کر سکے، جس پر ان پر 200 ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ اس سے قبل بھی مارچ اور گزشتہ برس اگست میں اسی نوعیت کی تاخیر پر ان پر جرمانہ لگایا جا چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے فروری میں مائیکروسافٹ اور ایمیزون کے لاکھوں ڈالر مالیت کے شیئر فروخت کیے تھے جبکہ مارچ میں دوبارہ انہی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے 10 فروری کو اینویڈیا کے شیئر بھی خریدے تھے۔ چند روز بعد اینویڈیا نے میٹا پلیٹ فارمز کے ساتھ ڈیٹا سینٹر منصوبے سے متعلق شراکت داری کا اعلان کیا، جس کے بعد کمپنی کے شیئروں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔






