
اسی دوران بھگوت مان حکومت نے اس قانون کی تشہیر کے لیے ریاست بھر میں ’شکرانہ یاترا‘ شروع کر دی، مگر اکال تخت نے قانون کی کئی اہم دفعات کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا۔ اکال تخت کا موقف تھا کہ گرو گرنتھ صاحب کی حرمت اور مذہبی ضابطوں سے متعلق فیصلے کرنے کا حق صرف اکال تخت اور شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی جیسے مذہبی اداروں کو حاصل ہے، اسمبلی کو نہیں۔
سب سے زیادہ تنازعہ اُس شق پر پیدا ہوا جس کے تحت گرو گرنتھ صاحب کی ہر ’بیڑ‘ کے لیے ڈیجیٹل رجسٹری اور منفرد شناختی نمبر لازمی قرار دیا گیا تھا۔ کئی مذہبی حلقوں نے کہا کہ مقدس گرنتھ کو شناختی نمبر دینا بھی بے ادبی کے مترادف ہے۔
اسی طرح ’نگراں‘ یا ’سرپرست‘ یعنی گرنتھیوں، پاٹھیوں اور گرودوارہ کمیٹیوں سے متعلق دفعات پر بھی شدید ناراضگی سامنے آئی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ قانون ان افراد کو تحفظ دینے کے بجائے خود انہیں قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہراتا ہے، جس سے مذہبی خدمت انجام دینے والے افراد مشکلات میں پڑ سکتے ہیں۔






