
’ملک کا متوسط طبقہ گزشتہ کئی برسوں سے غیر رسمی طور پر ’قومی خدمت‘ کا فریضہ انجام دے رہا ہے؛ فرق صرف اتنا ہے کہ اب اسے سرکاری منظوری بھی حاصل ہو گئی ہے۔‘ (فوٹو: پی ٹی آئی)
(ہری شنکر پرسائی، شرد جوشی اور شری لال شکل سے معذرت کے ساتھ)
آخرکار ملک کو وہ تاریخی لمحہ نصیب ہو ہی گیا جس کا انتطار شاید عالمی ماہرین معاشیات، نیتی آیوگ، زائچہ دیکھنے والے اور ٹی وی مباحثوں کے اینکر مشترکہ طور پر کر رہے تھے۔ پانچ ریاستوں کے انتخابات ختم ہوتے ہی قوم کو صبر وتحمل، قربانی اور کفایت شعاری کا پیغام موصول ہوا ہے۔
جمہوریت کا یہ حسن بھی کمال ہے کہ عوام پہلے کئی ہفتوں تک ترقی، قوم پرستی، تہذیبی بحران اور جذباتی پولرائزیشن کے مہااسنان یعنی شاہی غسل میں حصہ لیتے ہیں، پھر جیسے ہی ووٹنگ ختم ہوتی ہے، انہیں بتایا جاتا ہے کہ اب پیٹرول کم جلائیے، تیل کم کھائیے، سونا مت خریدیے، بیرون ملک مت جائیے اور گھر بیٹھ کر کام کیجیے۔
ہری شنکر پرسائی ہوتے تو شاید لکھتے کہ یہ وہی ملک ہے جہاں عوام سے قربانی کی اپیل اتنی ہی آسانی سے کی جاتی ہے جتنی آسانی سے لیڈر افتتاح کرتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ افتتاح کا فیتہ حکومت کاٹتی ہے اور قربانی کا بل عوام کو ادا کرنا پڑتا ہے۔
میں تو وزیر اعظم کی تشویش اور فکرمندی کو ڈھائی ماہ بعد حاصل کر کے پھولے نہیں سما رہا ہوں۔ ورنہ آسام، بنگال، کیرالہ، تمل ناڈو اور پڈوچیری کے انتخابات نے یہ باور کرا دیا تھا کہ جنگ، مہنگائی اور عالمی بحرانوں کو کوئی غیر مرئی قوت ہندوستان کی سرحدوں سے باہر روکے ہوئے ہے۔ اب جا کر سمجھ میں آیا کہ وزیر اعظم غائب نہیں تھے؛ وہ بس جمہوریت کے مقدس عمل کے مکمل ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ قومی بحران بھی شاید اب الیکشن کمیشن کی اجازت سے ہی ملک میں داخل ہوتے ہیں۔
یہ جان کر بھی حددرجہ اطمینان ہوا کہ ملک کے اقتصادی مسائل اچانک انتخابات کے نتائج آنے کے بعد ہی سنگین ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے شاید مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور تیل کی قیمتیں ضابطہ اخلاق کا احترام کر رہی تھیں۔ اگر شرد جوشی ہوتے تو شاید لکھتے: ’ہمارے یہاں مسائل بھی بہت بااخلاق اور مہذب ہوتے ہیں؛ انتخابات تک خاموشی سے گوشہ نشیں رہتے ہیں۔‘
وزیر اعظم نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کم استعمال کریں، میٹرو میں سفر کریں اور کار پولنگ اپنائیں۔ یہ مشورہ یقیناً ان لوگوں کے لیے بہت متاثر کن ہوگا جو پہلے ہی بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے باعث اپنی موٹر سائیکل کو گھر میں کسی خاندانی ورثے کی طرح کھڑا کر کے دیکھتے ہیں۔ ملک کا متوسط طبقہ گزشتہ کئی برسوں سے غیر رسمی طور پر اسی ’قومی خدمت‘ کا فریضہ انجام دے رہاہے؛ فرق صرف اتنا ہے کہ اب اسے سرکاری منظوری بھی مل گئی ہے۔
پہلے لوگ مجبوری میں کم پیٹرول ڈلواتے تھے، اب قومی مفاد میں کم بھروائیں گے۔ اس طرح معاشی مجبوری کو اخلاقی کامیابی میں بدل دینے کا ہنر شاید ہندوستانی نظام حکومت کی سب سے بڑی انتظامی حصولیابی ہے۔
ورک فرام ہوم کو دوبارہ فروغ دینے کی تجویز بھی کم دلچسپ نہیں۔ یہی نظام کچھ عرصہ پہلے آفس کلچر یا’دفتری ثقافت‘ اور پروڈکشن کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا تھا۔ ملازمین کو سمجھایا گیا تھا کہ قوم کی تعمیر صرف دفتر کی کرسی پر بیٹھ کر ہی ممکن ہے۔ لیکن انتخابات ختم ہوتے ہی وہی نظام حب الوطنی کا آلہ بن گیا۔ شری لال شکل کے ’راگ درباری‘ کا کوئی کردار شاید اس پر تبصرہ کرتا- ’نظام کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ ہر فیصلے کو حالات کا تقاضہ نہیں بلکہ قومی مفاد ثابت کر دیتا ہے۔‘
سب سے جذباتی اپیل سونا خریدنے کے حوالے سے آئی۔ ہندوستانی خاندانوں سے کہا گیا کہ وہ کم از کم ایک سال تک شادیوں میں سونا خریدنے سے گریز کریں۔ یہ اپیل صرف معاشی نہیں بلکہ ثقافتی ریاضت کا بھی تقاضہ کرتی ہے۔ ہندوستانی خاندانوں میں سونا محض ایک دھات نہیں بلکہ سماجی طور پر خوداعتمادی کی علامت ہوتا ہے۔ صدیوں سے سنجوئے گئے زیورات کے خواب اب زرمبادلہ کے ذخائر کے نام وقف کیے جائیں گے۔ ذرا تصور کیجیے-اب رشتہ دار پوچھیں گے، ’ بہو کو کیا دیا؟‘ اور جواب ملے گا، ’ قومی مفاد۔‘ ممکن ہے جلد ہی شادی کے کارڈ پر یہ جملہ بھی چھپنے لگے- ’ براہ کرم دعا دیں، سونا قومی تعمیر کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ‘
بیرون ملک سفر محدود کرنے اور ’ویڈ اِن انڈیا ‘کا نعرہ بھی وقت کے مطابق ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جن لوگوں نے گزشتہ برسوں میں غیر ملکی دوروں کو ترقی کی شاہراہ قرار دیا تھا، وہی اب مقامی سیاحت کو قربانی اور ریاضت کی علامت بنا رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے بیرون ملک سفر کو جدید طرز زندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا،، اب گھر میں رہنا حب الوطنی ہے۔ ممکن ہے جلد ہی گوا جانا آتم نربھرتا یعنی خود انحصاری اور نیپال جانا غیر ملکی سازش قرار دے دیا جائے۔
’ووکل فار لوکل‘ کا پیغام بھی ایک بار پھر لوٹ آیا ہے۔ آئیڈیا برا نہیں ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ اسے ہر بحران کے وقت ایسے نکالا جاتا ہے جیسے دادی اماں کی وہ پرانی دوا جسے ہر مرض میں مفیداور کارآمدسمجھا جاتا تھا-چاہے بخار ہو، بے روزگاری ہو، تجارتی خسارہ ہو یا عالمی کساد بازاری۔ پرسائی جی شاید کہتے- ’ہمارے یہاں نعرے اس لیے امر رہتے ہیں کہ مسائل کبھی مرتے نہیں۔ ‘
کسانوں کو کیمیائی کھاد آدھی کرنے اور قدرتی کھیتی اپنانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ یہ مشورہ ان کسانوں تک بھی پہنچے گا جو پہلے ہی لاگت، موسم، قرض اور منڈی کے درمیان کسی المیاتی مزاحیہ کردار کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اب ان سے کہا جا رہا ہے کہ اگر پیداوار کم ہو تو بھی مسکرائیے، کیونکہ یہ سبز قوم پرستی یا گرین نیشنل ازم کا حصہ ہے۔ ہندوستانی کسان شاید دنیا کی واحد ایسی مخلوق ہے جس سے ہر بحران میں قربانی کی توقع کی جاتی ہے اور ہر انتخاب میں امید کی۔
اور ہاں، کھانے میں تیل کم استعمال کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم صاحب نے کیا ہی نرالا نعرہ دیا-’دیہہ سیوا بھی، دیش سیوابھی۔‘ میں سوچتا ہوں کہ کیوں نہ اب ہر محلے میں ایک ’تیل معائنہ دستہ‘ بھی تشکیل دے دیا جائے، جو اچانک چھاپے مار کر بتائے کہ کس خاندان نے حب الوطنی سے زیادہ سرسوں کا تیل استعمال کر لیا۔ مستقبل میں ممکن ہے چولہے کی آگ دیکھ کر شہریت کا درجہ طے کیا جائے۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تمام اپیلوں میں ’حکومت‘ کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ قربانی ہمیشہ عوام دیں گے۔ پیٹرول عوام کم جلائیں گے، سونا عوام نہیں خریدیں گے، سفر عوام نہیں کریں گے، تیل عوام بچائیں گے۔ اقتدار کا کردار بنیادی طو رپر اخلاقی اپیلوں تک محدود رہے گا۔ یہ ایک ایسا معاشی ماڈل ہے جس میں پریشانیاں ذاتی ہیں اور تقریر اجتماعی۔
لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ یہ مشورے اچھے ہیں یا برے۔ کچھ مشورے عملی بھی ہو سکتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا قومی بحرانوں کی سمجھ بھی اب انتخابی کیلنڈر دیکھ کر فعال ہوتی ہے؟ اگر حالات اتنے سنگین تھے تو یہ اپیل ووٹنگ سے پہلے کیوں نہیں آئی؟ کیا قومی مفاد بھی اب ضابطہ اخلاق ختم ہونے کے بعد ہی نافذ ہوتا ہے؟
ہندوستانی جمہوریت میں شاید اب ایک نئے موسم کا اضافہ کر دینا چاہیے: گرمی، بارش، سردی اور ’انتخابات کے بعد موسم قربانی ‘۔ انتخابات کے دوران عوام ’وکاس‘ کا نعرہ سنیں گے اور انتخابات کے بعد ’صبر و تحمل‘ کا سبق پڑھیں گے۔ قوم آخرکار خود کفیل بن ہی رہی ہے-کم از کم اپنی قربانی اور ریاضت میں۔
منوج کمار جھا راشٹریہ جنتا دل کے راجیہ سبھاممبر ہیں۔





