کیا ڈیوٹی کے دوران شہید ہونے والے اگنی ویر کے اہل خانہ بھی دیگر فوجیوں کی طرح مراعات پانے کے حقدار ہیں؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مرکزی حکومت نے بامبے ہائی کورٹ کو بتایا کہ سروس کے فوائد کے معاملے میں اگنی ویر اور باقاعدہ فوجی ایک ہی سطح پر نہیں ہیں، اس لیے انہیں ’بعد از مرگ پنشن کے فوائد‘ نہیں دیے جا سکتے۔ ایک عرضی کے جواب میں مرکز نے کہا کہ اگر کسی اگنی ویر کی سروس کے دوران موت ہو جاتی ہے تو ان کے اہل خانہ باقاعدہ فوجیوں کی طرح پنشن اور دیگر فوائد کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔
واضح رہے کہ ہائی کورٹ میں یہ عرضی اگنی ویر مرلی نائک کی ماں جیوتی بائی نائک نے داخل کی تھی۔ مرلی گزشتہ سال 9 مئی کو ’آپریشن سندور‘ کے دوران شہید ہو گئے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اگنی ویروں کو بھی ان باقاعدہ فوجیوں کی طرح بعد از مرگ فوائد (پنشن اور فلاحی مراعات) فراہم کیے جائیں، جو ڈیوٹی کے دوران شہید ہوتے ہیں۔ جیوتی بائی کی عرضی میں کہا گیا تھا کہ ’اگنی پتھ اسکیم‘ اگنی ویروں اور باقاعدہ فوجیوں کے درمیان ایک ’من مانا‘ امتیاز پیدا کرتی ہے۔ اگنی ویروں کو بھی باقاعدہ فوجیوں کی طرح ہی کئی طرح کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مرکز نے اپنے جواب میں کہا کہ ’اگنی پتھ اسکیم‘ ایک قلیل مدتی نظام ہے، جسے موجودہ ملکی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ اگنی ویر باقاعدہ فوجیوں کے مساوی سہولیات پانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ انہیں ایک مقررہ 4 سال کی مدت کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے، جبکہ مسلح افواج میں پنشن کے فوائد اور دیگر الاؤنسز طویل مدتی ملازمت سے منسلک ہوتے ہیں۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2 مختلف پوزیشنوں والے زمروں کے لوگوں کے درمیان کوئی برابری نہیں ہو سکتی۔ یہ درجہ بندی اور تفریق ’اگنی پتھ اسکیم‘ کے مقاصد کے ساتھ ایک عقلیت پسندانہ تعلق رکھتا ہے، اس لیے یہ آئین کی دفعہ 14 (برابری کا حق) کے تحت آئینی طور پر درست ہے۔
ہائی کورٹ میں مرکز نے مزید کہا کہ اس اسکیم کی ملازمت کی شرائط قبول کرنے کے بعد شہید اگنی ویر کی ماں اب یہ مطالبہ نہیں کر سکتیں کہ باقاعدہ فوجیوں کو ملنے والے سروس کے فوائد اگنی ویر کے زمرے پر بھی نافذ کیے جائیں۔ مرکز نے یہ بھی کہا کہ اگنی ویروں اور باقاعدہ فوجیوں کے درمیان کی گئی درجہ بندی کچھ واضح بنیادوں پر مبنی ہے، جن مین ملازمت کی مدت، تقرری کی نوعیت اور بھرتی کی کئی شرائط شامل ہوتی ہیں۔
ہائی کورٹ سے عرضی کو خارج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مرکز نے کہا کہ اگنی ویروں کی بھرتی قومی سلامتی کی وجوہات کے باعث لیا گیا ایک پالیسی پر مبنی فیصلہ ہے، اور ایسے فیصلوں کا عدالتی جائزہ محدود ہوتا ہے۔ مرکز کی جانب سے داخل کیے گئے جواب میں یہ بھی کہا گیا کہ عرضی گزار اس غلط فہمی میں تھیں کہ اگنی ویر بھی باقاعدہ فوجیوں کی طرح پنشن کے فوائد کے حقدار ہیں۔ جبکہ اس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی متوفی اگنی ویر کے قریبی رشتہ داروں کو فیملی پنشن دینے کا کوئی التزام نہیں ہے۔ جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ مرلی نائک کی آخری رسومات پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں، اور ان کی ماں کو رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر سے ایک دل کو چھو لینے والا تعزیتی خط دیا گیا، جیسا کہ باقاعدہ فوجیوں کے معاملے میں کیا جاتا ہے۔ انہیں مجموعی طور پر 2.3 کرورڑ روپے کا معاوضہ ملا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































