
3۔ مساوات اور شمولیت: یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ترقی کے ثمرات معاشرے کے محروم طبقات تک پہنچ رہے ہیں یا نہیں۔
4۔ پائیداری اور لچک: یہ مستقبل کے معاشی، سماجی اور ماحولیاتی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی قومی صلاحیت کو جانچتا ہے۔
یہ چاروں ستون پالیسی سازوں کے لیے ایک “کمپاس” کی طرح کام کرتے ہیں۔ یہ انہیں قلیل مدتی سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ایسی فیصلے سازی کی طرف راغب کرتے ہیں جو طویل مدتی قومی استحکام کا باعث بنتی ہے۔ اس فریم ورک کی عملی ضرورت ہمیں خاص طور پر جدید ٹیکنالوجی کے دور میں محسوس ہوتی ہے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے عروج نے جی ڈی پی کی پیمائش کی خامیوں کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔ سیکرٹری جنرل گٹیرس کے مطابق، اے آئی عالمی پیداواری صلاحیت میں اس قدر اضافہ کر سکتی ہے جو جی ڈی پی کے گراف کو تو آسمان تک پہنچا دے گی، لیکن اس کے انسانی اخراجات تباہ کن ہو سکتے ہیں۔اگر ہم اے آئی کو صرف جی ڈی پی کے لینز سے دیکھیں گے، تو ہم ایک ’خطرناک تخفیف پسندی‘ کا شکار ہو جائیں گے۔ اے آئی کے نتیجے میں لاکھوں ملازمتوں کا ممکنہ خاتمہ، ڈیجیٹل تقسیم میں اضافہ اور خودکار مہلک ہتھیاروں کی تیاری جیسے عوامل جی ڈی پی میں مثبت یا غیر جانبدار نظر آ سکتے ہیں، لیکن وہ عالمی امن اور سماجی استحکام کے لیے ایک وجودی خطرہ ہیں۔





