
آج ایسے وقت میں جب مقابلہ جاتی امتحانات اور بورڈ نتائج کے لیے کوچنگ سینٹروں کو کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے، راشدہ ناز کی کہانی ایک الگ مثال بن کر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر طالب علم میں لگن، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی بڑی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
راشدہ ناز نے بتایا کہ وہ روزانہ کئی کئی گھنٹے صرف کتابوں کے سامنے بیٹھنے کے بجائے معیاری پڑھائی پر یقین رکھتی تھیں۔ ان کے مطابق باقاعدگی سب سے اہم چیز ہے اور ہر دن کچھ نہ کچھ ضرور پڑھنا چاہیے۔ وہ روزانہ تقریباً 7 سے 8 گھنٹے پڑھائی کرتی تھیں اور نصاب کو سمجھنے کے لیے زیادہ تر یوٹیوب اور آن لائن تعلیمی ویڈیوز کی مدد لیتی تھیں۔





