
کین-بیتوا لنک پروجیکٹ (کے بی ایل پی) کی بنیاد پی ایم مودی نے دسمبر 2024 میں رکھی تھی۔ اس منصوبے کے پاس (قانونی) جنگل یا جنگلی حیات کی منظوری نہیں ہے۔ میں اسے تھوڑا واضح کر دیتا ہوں۔ دونوں منظوریاں اس شرط پر دی گئی تھیں کہ پن بجلی والا حصہ محفوظ علاقے سے باہر رکھا جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔
پانی سے متعلق ڈاٹا اب بھی سرکاری راز ہیں۔ نہ تو ان کا کسی ماہر سے جائزہ کرایا گیا اور نہ انہیں عوامی کیا گیا۔ اس نتیجے پر پہنچنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے کہ کین ندی میں اضافی پانی ہے اور بیتوا میں پانی کی کمی ہے۔ اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ منصوبے کے دستاویزات میں کہیں زیادہ سستے، فوری اور کم تباہ کن متبادلوں پر غور بھی نہیں کیا گیا۔ پولاورم باندھ کے تعلق سے وزیر اعظم مودی کی کہی گئی بات کو ہی دہرائیں تو سیاست داں باندھوں کو ’اے ٹی ایم‘ کی طرح دیکھتے ہیں۔
اس پروجیکٹ سے ماحولیات پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ اتنا گھٹیا ہے کہ اس میں پنّا ٹائیگر ریزرو (پی ٹی آر) پر ممکنہ اثرات کا صحیح سے مطالعہ بھی نہیں کیا گیا۔ جب ماحولیات اور جنگلات کی وزارت کے ندی گھاٹی منصوبہ پر بنی ماہرین کی جائزہ کمیٹی نے 4 میٹنگوں کے بعد بھی پروجیکٹ کو منظوری دینے سے انکار کر دیا، تو اوما بھارتی (تب مرکزی وزیر برائے آبی وسائل) نے دھرنے پر بیٹھنے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد وزارت نے ماہرین کی جائزہ کمیٹی کی از سر نو تشکیل کی اور ایس کے جین کو اس کا چیئرمین بنایا گیا، اور پھر دسمبر 2016 میں اپنی پہلی ہی میٹنگ میں کین-بیتوا پروجیکٹ کو منظوری دے دی گئی۔ وہی ایس کے جین پروجیکٹ کے ڈائریکٹر جنرل بنے۔ جنگلاتی مشاورتی کمیٹی (ایف اے سی) اور سپریم کورٹ کے ذریعے مقرر کردہ مرکزی اختیاراتی کمیٹی (سی ای سی) نے پروجیکٹ کے خلاف زوردار دلائل دیے، لیکن سپریم کورٹ نے اس پر غور تک نہیں کیا!





