ڈیپ فیک اور اے آئی مواد پر حکومت نے اپنایا سخت رخ، گزشتہ 2 سال میں بلاکنگ آرڈرز میں 4 گنا اضافہ

AhmadJunaidJ&K News urduMay 6, 2026359 Views


پارلیمنٹ کو بتایا گیا تھا کہ 2023 میں اوسطاً تقریباً 6000 بلاکنگ آرڈر جاری کیے جا رہے تھے، لیکن یہ تعداد 2024 میں بڑھ کر تقریباً 12600 ہو گئی اور 2025 میں تقریباً 24300 تک پہنچ گئی۔

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

i

user

google_preferred_badge

ہندوستان میں آن لائن مواد بلاک کرنے کے معاملات میں کافی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ الیکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت یعنی ’ایم ای آئی ٹی وائی‘ کی جانب سے پاس کیے گئے بلاکنگ آرڈر گزشتہ ایک سال میں تقریباً 2 گنے ہو گئے ہیں۔ اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا پر بڑھتے ڈیپ فیک ویڈیو اور آرٹیفشیل انٹیلی جنس سے بنائے گئے غلط اور قابل اعتراض مواد کو مانا جا رہا ہے۔ سرکاری افسران کا کہنا ہے کہ مختلف پلیٹ فارم پر اس طرح کے مواد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کے گمراہ ہونے کا خطرہ بھی بڑھا ہے۔

پہلے پارلیمنٹ کو بتایا گیا تھا کہ 2023 میں اوسطاً تقریباً 6000 بلاکنگ آرڈر جاری کیے جا رہے تھے، لیکن یہ تعداد 2024 میں بڑھ کر تقریباً 12600 ہو گئی اور 2025 میں یہ بڑھ کر تقریباً 24300 تک پہنچ گئی۔ یہ اعداد و شمار گزشتہ سال دسمبر تک کے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ صرف 2 سال میں بلاکنگ آرڈر کی تعداد 4 گنا کے قریب پہنچ گئی ہے۔ وزارت کے مطابق سب سے زیادہ بلاکنگ آرڈر ’ایکس‘ پر ڈالے گئے مواد کے لیے جاری کیے گئے۔ کل آرڈر میں سے تقریباً 60 فیصد اسی پلیٹ فارم سے منسلک تھے، اس کے بعد فیس بک اور انسٹاگرام کا نمبر آتا ہے، جہاں تقریباً 25 فیصد مواد کو لے کر کارروائی ہوئی۔ یوٹیوب پر یہ اعداد و شمار تقریباً 5 فیصد رہا۔

حکومت کو ملنے والی شکایتوں میں سے نصف سے زائد وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کی طرف سے موصول ہوئی ہیں۔ بقیہ شکایتیں دیگر وزارتوں، محکموں اور عام لوگوں کی طرف سے موصول ہوئی ہیں۔ ان میں کئی معاملے ایسے ہیں جہاں لیڈران اور سیاسی پارٹیوں کے نام اور تصاویر کا غلط استعمال کر کے جعلی پوسٹ بنائے گئے۔ کچھ معاملات میں سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز ڈالی گئیں، جن میں اے آئی کی مدد سے کسی کی آواز بدل کر ایسی باتیں کہی گئیں جو انہوں نے کبھی نہیں کہیں۔

قابل ذکر ہے کہ آن لائن مواد کو بلاک کرنے کا حق سرکار کو آئی ٹی ایکٹ 2000 کے سیکشن 69اے کے تحت ملا ہوا ہے۔ اس کے تحت حکومت کچھ خاص وجوہات کے سبب کسی بھی آن لائن مواد تک لوگوں کی پہنچ روک سکتی ہے۔ ان وجوہات میں ملک کی سیکورٹی، سرحد کی حفاظت، دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات، لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنا اور جرائم کی تحقیقات شامل ہیں۔ اس عمل کے تحت ایک ’بلاکنگ کمیٹی‘ بنائی جاتی ہے، جس کی قیادت ایک افسر کرتا ہے۔ اس میں وزارت داخلہ، وزارت قانون، وزارت اطلاعات و نشریات اور سی ای آر ٹی-اِن کے افسران شامل ہوتے ہیں۔ کمیٹی ہر معاملہ کو دیکھتی ہے اور اس کے بعد فیصلہ لیتی ہے۔ آخری منظوری وزارت کے سکریٹری دیتے ہیں۔ اس دوران سوشل میڈیا کمپنیوں کے افسران بھی اپنی بات رکھنے کے لیے شامل ہوتے ہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...