
کیا اب حق رائے دہی ہندوستان کے لوگوں کا حق نہیں بلکہ سرکاری الیکشن کمیشن کی جانب سے طے کردہ ’منطقی‘ عمل کے تحت دیا گیا تحفہ ہوگا؟(فوٹو: پی ٹی آئی)
پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے درمیان سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ بالغ رائے دہی یعنی یونیورسل ایڈلٹ فرنچائز کے تصور کو قبر میں دفن کر دیا گیا ہے۔ پرکالا پربھاکر نے انتہائی تکلیف کے ساتھ لکھا ہے کہ اگر بنگال کے 28 لاکھ ووٹروں سے ان کا حق رائے دہی چھین لینا ہماری سب سے بڑی تشویش نہیں ہے، تو ہمیں خود کو جمہوری ملک کہنا چھوڑ دینا چاہیے۔
سوال یہ نہیں ہے کہ اگر یہ 28 لاکھ ووٹر ووٹ ڈال پاتے تو بنگال کے انتخابی نتائج کیا ہوتے۔ بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اب ہندوستان کے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا؛ ایک وہ جنہیں ووٹ کا حق دیا جائے گا، اور دوسرے وہ جنہیں وقتاً فوقتاً اس حق سے محروم کر دیا جائے گا؟ کیا اب حق رائے دہی ہندوستانی عوام کا بنیادی حق نہیں بلکہ سرکاری الیکشن کمیشن کی جانب سے طے کردہ ’منطقی‘ عمل کے تحت دیا جانے والا ایک تحفہ ہوگا؟
بنگال میں انتخابات سے پہلے الیکشن کمیشن نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے تقریباً 91 لاکھ ’غیر موافق‘ ووٹروں کو فہرست سے خارج کر دیا تھا۔ ان میں سے 34 لاکھ ووٹر جب اپنا نام ووٹر لسٹ میں شامل کرانے کے لیے سپریم کورٹ گئے، تو عدالت نے ان سے کہا کہ اس انتخاب میں ان کا ووٹ ڈالنا کوئی ضروری نہیں ہے۔ یعنی اب ہندوستان کا ہر بالغ شہری حق رائے دہی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
جو سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کے اس عمل سے اختلاف رکھتی تھیں، انہوں نے بھی ان 27 لاکھ ووٹروں کے بغیر ہی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ان انتخابات میں حصہ لے کر انہوں نے اس خیال کو جواز فراہم کر دیا کہ ہندوستان میں بالغ رائے دہی اب ایک خصوصی حق ہے، یعنی ایسا استحقاق ہے جو ہر کسی کو حاصل نہیں ہوگا۔
اپنے جمہوری حق سے محروم ان ووٹروں نے یہ دیکھا کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے اہم نہیں تھے۔ اس کے بعد یہ شکوہ کرنے کا کوئی مطلب نہیں کہ ممتا بنرجی بھبانی پور میں 15 ہزار ووٹوں سے ہار ی ہیں، جبکہ وہاں 47 ہزار لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکال دیے گئے ہیں۔ اگر ممتا بنرجی ان 47 ہزار لوگوں کو انتخابی عمل میں شامل کیے بغیر الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کرتیں، تو یہ ان کی اخلاقی فتح ہوتی۔
یہ کہا جا رہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور ترنمول کانگریس کے درمیان صرف 13 لاکھ ووٹوں کا فاصلہ ہے جبکہ تقریباً 27 لاکھ لوگوں کو ووٹنگ سے محروم رکھا گیا۔ یعنی اگر وہ بھی انتخابات میں حصہ لے پاتے تو کیا نتیجہ یہی ہوتا؟ لیکن اب یہ سوال غیر متعلق ہو چکا ہے کیونکہ ان 27 لاکھ لوگوں کے بغیر ممتا بنرجی اور اپوزیشن نے انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا۔
یہ سب ان ووٹروں کے حقوق کے لیے کھڑے نہیں ہوئے جن کے ساتھ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ نے ناانصافی کی تھی۔ یہ جمہوریت میں کسی کے ساتھ کی جانے والی سب سے بڑی ناانصافی تھی، لیکن غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ اتنا سنجیدہ مسئلہ نہیں تھا کہ وہ یہ کہتے کہ جب تک انہیں انتخابات میں حصہ لینے کا حق نہیں ملتا، وہ بھی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔
اگر سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ ووٹر اُن کے ساتھ کھڑے ہوں تو پہلے انہیں یہ دکھانا ہوگا کہ وہ ووٹروں کے ساتھ کھڑی ہیں۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں نے ایسا نہیں کیا ہے۔
اسی طرح آسام میں انتخابی حلقوں کی حد بندی اس طرح کی گئی کہ مسلمانوں کے ووٹوں کی اہمیت مجموعی طور پر انتخابی نتائج کے لیے ان کی تعداد کے مقابلے میں بہت کم ہو جائے۔ یعنی جن حلقوں کے نتائج پر وہ اثر انداز ہو سکتے تھے، اب وہ ان کے مقابلے میں بہت کم حلقوں تک محدود ہو گئے ہیں۔ ان حلقوں کی حد بندی اس طرح کی گئی ہے کہ بی جے پی مخالف ووٹروں کو چند حلقوں تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کے ووٹروں کو ہوشیاری سے وسیع علاقوں میں پھیلا دیا گیا ہے۔
اس طرح ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ اپنے حامیوں کے گنجان علاقوں میں 70-80 فیصد ووٹوں سے جیتنے کے باوجود بھی غیر بی جے پی جماعتوں کی نشستوں کی تعداد ہمیشہ کم ہی رہے گی۔
اس طرح ہندوستان کے لوگوں کو دو طرح سے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ایک وہ جن کے پاس حق رائے دہی ہے اور دوسرے وہ جو اس حق سے محروم ہیں۔ پہلے گروہ کو دوسرے سے کوئی ہمدردی نہیں ہوگی۔ لوگ انفرادی طور پر پہلے گروہ میں شامل ہونے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ لیکن اگر یقین ہو جائے کہ صرف مسلمانوں کو ہی حق رائے دہی سے محروم کیا جائے گا تو وسیع پیمانے پر کوئی مخالفت نہیں ہوگی۔
اسی طرح جہاں مسلمانوں کو بالکلیہ حق رائے دہی سے محروم نہیں کیا جا سکے گا، وہاں انتخابی حلقوں کی حد بندی اس طرح کی جائے گی کہ وہ پورے ریاست کے انتخابی نتائج پر اثر انداز نہیں ہو سکیں گے۔ وہ چند حلقوں تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔ اس طرح حکومت بنانے کے معاملے میں مسلمانوں کے ووٹ غیر مؤثر بنا دیے جائیں گے۔
سال2026کے اسمبلی انتخابات میں بنگال اور آسام میں جو تجربہ کیا گیا ہے، وہ ساورکر اور گولوالکر کے ہدف کی طرف ایک فیصلہ کن قدم ہے؛ ایک ایسا ہندوستان جہاں ہندو مفادات خود کو مسلمانوں کے مفادات سے الگ کر لیں گے۔ مسلمان جسمانی طور پر زندہ رہیں گے لیکن سیاسی طور پر بے جان کر دیے جائیں گے۔
(اپوروانند دہلی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔)





