مغربی بنگال اور آسام کے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کی حیرت انگیز فتح کے بعد ایک بار پھر اپوزیشن پارٹیوں نے ’ووٹ چوری‘ کا ایشو زوردار انداز میں اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ کانگریس نے تو مغربی بنگال کے انتخابی نتیجہ کے بعد ’ابکی بار لوک تنتر کا اَنتم سنسکار‘ (اس بار جمہوریت کی آخری رسومات ادا) جملہ کہہ کر بی جے پی کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن پر بھی شدید حملہ کیا ہے۔ یہ جملہ کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔
پون کھیڑا نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارا ملک ایک خوفناک دور سے گزر رہا ہے، جہاں جمہوریت کو اغوا کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ہمارے لیڈر راہلگ اندھی نے ایک خصوصی پریس کانفرنس کی تھی، جس میں انھوں نے ملک کی الگ الگ ریاستوں میں کی جا رہی ’ووٹ چوری‘ کے بارے میں بتایا تھا۔ ان میں ہریانہ، مہاراشٹر، کرناٹک کی مثال دی گئی تھی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ووٹ چوری، ایس آئی آر اور حد بندی کو اسلحہ بنا کر جمہوریت کو قبضے میں لیا جا رہا ہے۔ یہ سہ طرفہ حملہ ہے۔‘‘
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ’’جب 2024 میں لوک سبھا انتخابات میں نریندر مودی کو جھٹکا لگا، تب انتخابی سسٹم کو تباہ کرنے کی سازش تیار کی گئی۔ ہم پر کئی بار سوال اٹھائے جاتے ہیں، لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ انھوں نے جہاں جہاں کیچڑ پھیلایا ہے، وہاں کمل اُگ گیا۔ یہ نریندر مودی اور بی جے پی کا پیٹرن ہے۔ اگر ملک نے اس پر توجہ نہیں دی تو یہ کیچڑ ہر طرف پھیلے گا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ملک میں ’ووٹ چوری‘ کا کیچڑ پھیلایا جا رہا ہے۔ اس کیچڑ کو پھیلنے سے روکنا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن ہیٹ اسپیچ اور شکایتوں پر نوٹس لینے کی جگہ خود اس کیچڑ میں لوٹ گیا اور جمہوریت کو داغدار بنا دیا۔‘‘
پریس کانفرنس میں پون کھیڑا نے مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے خلاف مضبوط مقابلہ کرنے کا ذکر بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم ترنمول کانگریس کے خلاف بنگال میں مضبوطی سے لڑے، ان کے خلاف تشہیر کی، لیکن انتخابی نتیجہ کے بعد جب دھاندلی کی بات سامنے آئی تو ہمارے لیڈر راہل گاندھی نے اخلاقیات کے ساتھ اپنا اصولی رخ واضح کیا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’میں اپنے لیڈر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے ایسے دور میں اصولوں کی بات کی، جب ایسی سیاست ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔‘‘
مغربی بنگال اور آسام میں بی جے پی کی فتح کے پیچھے موجود وجہ کو میڈیا کے سامنے رکھتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ’’جس طرح مہاراشٹر میں ہدف بنا کر لاکھوں ووٹ جوڑے گئے تھے، ویسے ہی مغربی بنگال اور آسام میں ہدف بنا کر لاکھوں ووٹرس کو ڈیلیٹ کر دیا گیا۔ ہم آپ کے سامنے کئی ریاستوں کی مثال دیتے آئے ہیں، جو ثابت کرتا ہے کہ ووٹر لسٹ اور انتخابی عمل ندارد ہوتا جا رہا ہے۔‘‘ چیف الیکشن کمشنر پر حملہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’جمہوریت کے چوکیدار گیانیش گپتا خود چوروں کو اپنے کندھے پر بٹھا کر اسمبلی لے کر جا رہے ہیں، یہ سب آپ کے سامنے ہو رہا ہے۔ یہ جمہوریت کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے، ایک داغ ہے۔‘‘
کانگریس لیڈر نے بی جے پی کی فتح کے بعد مغربی بنگال میں شروع ہو چکے تشدد کا ذکر بھی پریس کانفرنس میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جب سے نتائج برآمد ہوئے ہیں، مغربی بنگال میں تشدد کا دور شروع ہو چکا ہے، لیکن انھیں روکنے کی جگہ دہلی سے انھیں مزید مشتعل کیا جا رہا ہے۔ مغربی بنگال میں مخالفین کے دفتر جلائے جا رہے ہیں، لوگوں کو مارا جا رہا ہے، دکانیں توڑی جا رہی ہیں، ڈی جے بجا کر فحش گانے بجائے جا رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’بی جے پی مغربی بنگال میں جیت کی خوشی نہیں منا رہی، سراسر غنڈہ گردی کر رہی ہے، لوگوں کو ڈرا دھمکا رہی ہے۔ نریندر مودی کو اپنے عہدہ کا خیال رکھتے ہوئے روش اختیار کرنا چاہیے اور اس تشدد کو روکنا چاہیے۔‘‘



































