
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیجی خطے، خصوصاً آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ علاقہ عالمی تیل سپلائی کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات میں شدت آئی ہے، جس میں سمندری سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔
ہیگسیتھ نے مزید کہا کہ “یہ مشن ایک طے شدہ مدت اور محدود دائرہ کار میں انجام دیا جا رہا ہے۔ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ عالمی تجارت کو متاثر ہونے سے بچایا جائے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق بحری نقل و حرکت کو یقینی بنایا جائے۔” انہوں نے زور دیا کہ امریکی افواج کو اپنے مشن کی تکمیل کے لیے ایران کے علاقائی پانیوں یا فضائی حدود میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔





