مغربی بنگال، آسام، تمل ناڈو، کیرالہ اور پڈوچیری کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان آج۔ چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ووٹوں کی گنتی آ ج صبح 8 بجے شروع ہوگی۔ پہلے پوسٹل بیلٹ کی گنتی کی جائے گی، اس کے بعد ای وی ایم کےووٹوں کی گنتی ہوگی۔ اس الیکشن کو انتہائی دلچسپ اور سیاسی طور پر اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس کے نتائج سے کئی بڑی جماعتوں اور رہنماؤں کا مستقبل طے ہو سکتا ہے۔
جہاں علاقائی پارٹیاں ان انتخابات میں اپنی گرفت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں بھی اپنی سیاسی بنیاد کو مضبوط کرنے کے ارادے سے میدان میں ہیں۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس، تمل ناڈو میں دراوڑ منیترا کزگم، کیرالہ میں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ، آسام میں بی جے پی اور پڈوچیری میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی ساکھ داؤ پر ہے۔ گنتی مراکز پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ تین درجے سیکورٹی کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔
مغربی بنگال کی 293 اسمبلی سیٹوں کے لیے 77 گنتی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ اس بار ریاست میں ریکارڈ 92.47 فیصد ووٹ ڈالے گئے جو کہ آزادی کے بعد سب سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس مسلسل چوتھی بار اقتدار میں واپسی کی امید کر رہی ہے۔ بی جے پی نے بھی ریاست میں ایک مضبوط چیلنج پیش کیا ہے۔ بائیں بازو کی جماعتیں اور کانگریس، جن کا 2021 کے انتخابات میں عملی طور پر صفایا ہو گیا تھا، اس بار واپسی کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ چھوٹی جماعتیں بھی اہم علاقوں میں اثر و رسوخ کا دعویٰ کر رہی ہیں۔ تاہم جنوبی 24 پرگنہ ضلع کی فالٹا سیٹ پر سنگین انتخابی بے ضابطگیوں کی وجہ سے ووٹنگ منسوخ کر دی گئی جہاں21 مئی کو دوبارہ پولنگ ہوگی۔
این ڈی اے اتحاد آسام میں مسلسل تیسری بار اقتدار میں واپسی کی امید کر رہا ہے۔ 126 اسمبلی سیٹوں کے لیے چالیس گنتی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ کل 722 امیدوار میدان میں ہیں۔ ریاست میں ووٹ ڈالنے کی شرح 85.96 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما، کانگریس کے گورو گوگوئی اور رائیور دل کے اکھل گوگوئی جیسی اہم شخصیات خبروں میں ہیں۔
کیرالہ میں مقابلہ بنیادی طور پر یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) اور لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) کے درمیان ہے۔ بایاں محاذ پچھلی دو میعادوں سے اقتدار میں رہا ہے، لیکن اس بار کانگریس 2024 کے لوک سبھا انتخابات اور حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اپنی مضبوط کارکردگی سے خوش ہے۔ بی جے پی اتحاد بھی ریاست میں اپنی سیاسی موجودگی کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیرالہ میں 140 سیٹوں کے لیے 883 امیدوار میدان میں ہیں۔ 140 گنتی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ تقریباً 15,464 اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ سیکورٹی کے لیے مرکزی فورسز کی 25 کمپنیاں بھی تعینات کی گئی ہیں۔ اگر بایاں محاذ ہار جاتا ہے تو 1960 کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ بائیں بازو کی پارٹی کسی بھی ریاست میں اقتدار میں نہیں ہوگی۔
تمل ناڈو میں حکمران دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) مسلسل دوسری مرتبہ حکومت بنانے کی امید کر رہی ہے۔ یہاں کا سیاسی منظرنامہ پہلے ہی بدل چکا ہے۔ اپنے روایتی حریف آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کزگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کے علاوہ اداکار وجے کی پارٹی اور سیمن کی پارٹی کی موجودگی نے بھی انتخاب کو دلچسپ بنا دیا ہے۔ ریاست میں 234 اسمبلی سیٹوں کے لیے 62 گنتی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ تقریباً 1.25 لاکھ اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ ووٹوں کی گنتی کے لیے 10,545 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ہر اسمبلی حلقہ کے لیے ایک کاؤنٹنگ سپروائزر کا تقرر کیا ہے۔
پڈوچیری میں بھی مقابلہ دلچسپ ہے۔ یہاں گنتی کے چھ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ این ڈی اے میں علاقائی اور قومی پارٹیاں شامل ہیں۔ این ڈی اے کو اپوزیشن اتحاد سے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ یہ انتخاب یونین ٹیریٹری کی سیاسی سمت کا تعین کرے گا۔ ان ریاستوں کے علاوہ گوا، کرناٹک، ناگالینڈ، گجرات، تریپورہ اور مہاراشٹر کی آٹھ اسمبلی سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی بھی آج ہی ہوگی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































