
اس کے باوجود ہماری زرعی پالیسیاں ایسی فصلوں کو ترجیح دیتی ہیں جو زیادہ پانی استعمال کرتی ہیں، جبکہ مقامی اور گرمی برداشت کرنے والی فصلوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف وسائل کا ضیاع ہے بلکہ مستقبل کے لیے خطرناک حکمت عملی بھی ہے۔
ماحولیاتی نظام بھی اس بحران سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ جنگلات کی کٹائی، کان کنی اور انفراسٹرکچر کی توسیع نے فطری توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ جنگلات نہ صرف کاربن کو جذب کرتے ہیں بلکہ مقامی درجہ حرارت کو معتدل رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی تباہی کا مطلب ہے کہ ہم خود کو قدرتی تحفظ سے محروم کر رہے ہیں۔
’ون ہیلتھ‘ کا تصور، جو انسان، جانور اور ماحول کو ایک اکائی کے طور پر دیکھتا ہے، اس وقت انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہماری پالیسیاں اس جامع نظریہ کو نظر انداز کرتی رہی ہیں۔ نتیجتاً، جنگلی حیات انسانی بستیوں کی طرف بڑھ رہی ہے، کیونکہ ان کے قدرتی مسکن اور پانی کے ذرائع ختم ہو رہے ہیں۔






