
یہ صورتحال ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔ مختلف اور ایک دوسرے کے متضاد عالمی دھڑوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ برکس کے اندر یہ حکمت عملی پہلے ہی ناکام دکھائی دیتی ہے۔ ہندوستان جتنا زیادہ محتاط ہوتا ہے، چین اتنی ہی زیادہ جگہ حاصل کرتا جاتا ہے۔ عالمی معاملات پر واضح موقف سے گریز ہندوستان کے اثر و رسوخ کو مزید کمزور کرتا جا رہا ہے۔
ایک متبادل عالمی نظام کے مرکز کے طور پر برکس کی ساکھ پہلے ہی کم ہو رہی تھی، مگر ہندوستان کی صدارت میں یہ کمزوری مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ گروہ تو پھیل رہا ہے اور نئے اراکین شامل ہو رہے ہیں، مگر اجتماعی اور مؤثر اقدام کرنے کی صلاحیت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
اس گروہ کے اندر ہندوستان کے لیے واضح کردار طے کرنے میں مودی حکومت کی ناکامی کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان برکس کی صدارت تو کر رہا ہے مگر اس پر اس کا حقیقی کنٹرول نہیں۔ وہ میزبانی تو کرے گا، مگر نتائج پر اثر انداز نہیں ہو سکے گا۔ ستمبر میں نئی دہلی میں ہونے والا سربراہی اجلاس اس کی غیر اہمیت کو مزید نمایاں کر دے گا۔
(مضمون نگار اشوک سوین سویڈن کی اپسلا یونیورسٹی میں امن اور تنازعات کے مطالعہ کے پروفیسر ہیں)






