
روسی مندوب نے اپنے بیان میں مغربی ممالک کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’جدید سمندری قزاق‘ تک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مغرب اپنے غیرقانونی اقدامات کو چھپانے کے لیے یکطرفہ پابندیوں اور دباؤ کی پالیسیوں کا سہارا لیتا ہے، جو عالمی اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرز عمل سے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔
واسیلی نبنزیا نے یورپی ممالک پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ یوکرین کی جانب سے بحیرہ اسود میں روسی تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کی حمایت کر رہے ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی سمندری سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں اور بین الاقوامی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔






