ہندوستان کے بغیر سافٹا پر پیش رفت کی بازگشت

AhmadJunaidJ&K News urduApril 24, 2026361 Views


یہ ویبینار ہندوستان میں قائم سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس کے زیر اہتمام مکالموں کی ایک سیریز کا حصہ تھا، جس کی صدارت او پی شاہ کر رہے تھے۔ اس سلسلے کا مقصد جنوبی ایشیا میں مکالمے اور تعاون کو ازسرِ نو فروغ دینا ہے۔

سارک ممالک کے جھنڈے تصویر: رائٹرز

جنوبی ایشیا میں بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور ماحولیاتی خطرات کے پیش نظرممتاز سفارت کاروں اور پالیسی سازوں کے ایک گروپ  نے  سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس کے زیر اہتمام منعقد ایک ویبینار میں جنوبی ایشیائی تعاون تنظیم یعنی سارک اور اس کی تجارتی شاخ ساؤتھ ایشیا فری ٹریڈ ایگریمنٹ یعنی سافٹا کی فوری بحالی پر زور دیا۔

گروپ نے متنبہ کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ بات چیت میں مزید تاخیر علاقائی خطرات کو مزید گہرا کر دے  گی۔ شرکاء نے زور دیا کہ ہندوستان یا تو سارک کو فعال کرنے میں مدد کرے یا دیگر ممالک کو آگے بڑھنے دے،تاکہ خطے کو درپیش مسائل کا مشترکہ حل تلاش کیا جا سکے۔

مقررین نے خبردار کیا کہ اگر یہ جمود برقرار رہا تو خطے کی کمزوریاں مزید نمایاں ہو جائیں گی۔

 ویبینار میں علاقائی تعاون پر گفتگو کرتے ہوئے شرکاء نے کہا کہ سارک کو سیاسی تعطل سے آگے بڑھ کر تجارتی روابط کی بحالی، عوامی سطح پر روابط کے فروغ اور مشترکہ چیلنجز—جیسے ماحولیاتی تبدیلی اور آلودگی—سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

شرکاء نے ایک بار پھر اس امر پر زور دیا کہ ہندوستان یا تو قیادت کا کردار ادا کرے یا دوسروں کو آگے بڑھنے دے تاکہ سارک کو فعال بنایا جا سکے اور خطے کے مسائل کا اجتماعی حل ممکن ہو سکے۔

سابق پاکستانی سفیرمنصور خان نے’ ڈینگ ژیاؤپنگ مومنٹ‘کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنے تاریخی تنازعات کو پس پشت ڈال کر اقتصادی ترقی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

کچھ شرکاء نے ’سارک پلس چین‘فریم ورک کی تجویز بھی پیش کی، تاکہ جنوبی ایشیا کو وسیع تر ایشیائی نیٹ ورکس کے ساتھ منسلک کیا جا سکے۔

بنگلہ دیش کے سابق سفیر صوفی رحمان نے سارک کی ناکامیوں پر تفصیلی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کو وزارت خارجہ کے حد سے زیادہ کنٹرول سے آزاد کرنے اور اسے اکیڈمیا، تھنک ٹینکس اور سول سوسائٹی کے لیے کھولنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے چار دہائیوں پرانے سارک چارٹر پر نظر ثانی کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ اسے موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

ماہرین نے تعطل کا ذمہ دار نئی دہلی کو ٹھہرایا۔ اراکین نے یہ تجویز بھی دی کہ دیگر رکن ممالک کو سارک اجلاس بلانے اور اس عمل کو بحال کرنے کے لیے اب خود پہل کرنی چاہیے۔

سابق ہندوستانی وزیر اور سفارت کار منی شنکر ایر اس معاملے پر زیادہ واضح تھے۔ انہوں نے ہندوستان کو اس امن عمل میں مرکزی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ اگر ہندوستان سارک اجلاسوں کو روکنا جاری رکھتا ہے تو باقی سات ممالک—پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، بھوٹان، مالدیپ اور افغانستان—آزادانہ طور پر سافٹا کے نفاذ کی جانب بڑھیں اور ’خوشحالی کا ایک نیا دائرہ‘تشکیل دیں، جو بالآخر ہندوستان کو دوبارہ شامل ہونے پر مجبور کرے۔

دیگر خطوں کے مقابلے میں جنوبی ایشیا میں باہمی تجارت کی شرح نہایت کم ہے، جو پانچ فیصد سے بھی نیچے ہے، جبکہ آسیان ممالک کے درمیان یہ شرح تقریباً 25 فیصد اور یورپی یونین میں 60 فیصد تک پہنچتی ہے۔

اس تناظر میں پاکستانی وزیر اور صنعتکار اسفندیار بھنڈارا نے زور دیا کہ پاکستان اور اس کے پڑوسی ممالک کو سیاسی کشیدگی کو اقتصادی تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ سرحدیں کھولنے سے پاکستان میں غذائی افراطِ زر میں فوری کمی آ سکتی ہے، کیونکہ اس سے سستی درآمدات ممکن ہوں گی، اور دیگر پڑوسی ممالک بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

سابق پاکستانی وزیر خرم دستگیر نے کہا کہ دنیا کے غریب ترین خطوں میں شمار ہونے والے جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کو مزید تاخیر کا شکار نہیں بنایا جا سکتا۔

انہوں نے مضبوط مالیاتی روابط، سڑکوں، فضائی اور بحری نقل و حمل کے نظام میں بہتری پر زور دیا، اور مشترکہ ماحولیاتی خطرات—جن میں بالائی سندھ طاس میں گلیشیئرز کا پگھلنا اور دہلی و لاہور کو متاثر کرنے والی فضائی آلودگی شامل ہے—سے خبردار کیا۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ دہائیوں تک جاری رہنے والا سندھ طاس معاہدہ 2025 کے پہلگام واقعے کے بعد معطل ہو چکا ہے، جو خطے کے لیے تشویشناک پیش رفت ہے۔

سری لنکا سے تعلق رکھنے والے ترقیاتی ماہر گنشان وگناراجا نے حکومتوں کے بجائے بزنس ٹو بزنس ماڈلز کو فروغ دینے کی وکالت کی۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ سنگاپور جیسے مراکز کے ذریعے غیر رسمی تجارت آج بھی جاری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ خطے کے ممالک کو سمندری راستوں اور بندرگاہوں جیسے بنیادی ڈھانچے سے فائدہ اٹھانا چاہیے، جو زمینی راستوں کے مقابلے میں سیاسی طور پر کم حساس ہوتے ہیں۔

مذاکرے میں میڈیا کے کردار اور امن کے عمل میں نوجوانوں کی شمولیت پر بھی زور دیا گیا۔ شرکاء نے مرکزی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اکثر دشمنی کو ہوا دیتا ہے اور اقلیتی تناؤ کو بڑھاتا ہے، جبکہ نوجوان نسلیں سارک کی افادیت سے بڑی حد تک ناواقف ہیں۔

پاکستانی کارکن طاہرہ عبداللہ نے علاقائی میڈیا چارٹر کی تجویز پیش کی اور نوجوانوں کو متحرک کرنے کے لیے مشترکہ ڈیجیٹل مواد کی تیاری پر زور دیا۔ انہوں نے امن کی تعمیر میں خواتین کے مرکزی کردار کی اہمیت اجاگر کی اور کشمیر کے حوالے سے ایک ’مثلثی مکالمہ‘تجویز کیا، جس میں کشمیری عوام کی آواز کو شامل کیا جائے۔

یہ ویبینار ہندوستان میں قائم سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس کے زیر اہتمام مکالموں کی ایک سیریز کا حصہ تھا، جس کی صدارت او پی شاہ کر رہے تھے۔ اس سلسلے کا مقصد جنوبی ایشیا میں مکالمے اور تعاون کو ازسرِ نو فروغ دینا ہے۔

(روہنی سنگھ دہلی میں مقیم آزاد صحافی ہیں۔)



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...