مدھیہ پردیش میں موہن یادو حکومت کی جانب سے دیہی علاقوں میں حصول اراضی پر معاوضے کو 2 گنا سے بڑھا کر 4 گنا کرنے کے فیصلے نے اب سیاسی رنگ اختیار کر لیا ہے۔ ایک طرف جہاں ریاستی حکومت اسے کسانوں کے مفاد میں ایک تاریخی قدم قرار دے رہی ہے، وہیں سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے اس پر تنقید کیا ہے۔ انہوں نے بی جے پی حکومت پر ’کریڈٹ چوری‘ کرنے اور کسانوں کو ’گمراہ‘ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک اخبار کی کٹنگ شیئر کرتے ہوئے ایم پی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ انہوں پوسٹ میں لکھا کہ ’’مدھیہ پردیش حکومت نے ایک دہائی کے طویل وقفے کے بعد، کسانوں کے پرزور مطالبے پر ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے بنائے ہوئے لینڈ ایکوزیشن (حصول اراضی) قانون کے مطابق کسانوں کو 4 گنا معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن ریاست کی بی جے پی حکومت اپنے لیڈروں کی روش پر چلتے ہوئے اس تاخیر پر معافی مانگنے کے بجائے، کسانوں کو اپنے احسان تلے دبانے اور جھوٹی واہ واہی لوٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں جے رام رمیش نے مزید لکھا کہ ’’سچائی یہ ہے کہ یو پی اے حکومت کے ستمبر 2013 کے قانون میں ہی دیہی زمین کے مالکان کے لیے 4 گنا معاوضے کا التزام موجود تھا۔ 10 سال تک 1.0 ملٹی پلائر رکھ کر اب وہی قانون نافذ کر رہے ہیں اور اس کا کریڈٹ لے رہے ہیں۔ کس نے کیا کام، اور کون لے رہا ہے نام؟‘‘
واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں دیہی علاقوں کی زمین کا حصول اب کسانوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوگا۔ سڑک، پل، ریلوے لائن، نیشنل ہائی وے، ایکسپریس وے اور آبپاشی جیسے منصوبوں کے لیے زمین لینے پر اب بازار کی شرح کا 2 گنا نہیں، بلکہ 4 گنا معاوضہ دیا جائے گا۔ کابینہ نے بدھ (12 اپریل) کو اس تجویز کو منظوری دے دی۔ محکمہ ریونیو جلد ہی اس کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اسے اسی ماہ سے نافذ کر دیا جائے۔ شہری علاقوں میں پہلے کی طرح 2 گنا معاوضے کا نظام برقرار رہے گا، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ نئی پالیسی نافذ ہوگی۔ اس فیصلے کے ساتھ مدھیہ پردیش ان ریاستوں میں شامل ہو گیا ہے، جہاں دیہی زمین کے حصول پر زیادہ معاوضہ دیا جا رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کسانوں کو بہتر معاوضہ یقینی بنانے کے لیے پہلے ہی 3 وزراء پر مشتمل کابینہ کمیٹی بنائی تھی۔ اس میں پی ڈبلیو ڈی کے وزیر راکیش سنگھ صدر، وزیر آبی وسائل تلسی سلاوٹ اور ایم ایس ایم ای کے وزیر چیتنیہ کشیپ ممبر تھے۔ اسی کمیٹی کی سفارشات کو کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































