لوک سبھا میں حد بندی پر وزیر داخلہ کی تقریر کا فیکٹ چیک

AhmadJunaidJ&K News urduApril 18, 2026359 Views


بیک اسٹوری: حد بندی کے معاملے پر وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو پارلیامنٹ میں کئی یقین دہانیاں کرائیں، لیکن گہرائی سے جائزہ لینے پر وہ گمراہ کن ثابت ہوتی ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ 16 اپریل کو پارلیامنٹ میں خطاب کرتے ہوئے۔ (تصویر: سنسد ٹی وی/پی ٹی آئی)

نئی دہلی: جب ملک کے وزیر داخلہ پارلیامنٹ میں کھڑے ہو کر ایک نہایت اہم بل کی’سرکاری وضاحت‘پیش کرتے ہیں، تو ان سے قانونی وضاحت کی توقع کی جاتی ہے۔ لیکن اس کے برعکس جو دیکھنے کو ملا، وہ سیاسی انداز میں ابہام پیدا کرنے کی ایک مثال تھی۔ جنوبی ریاستوں کو اپنی سیاسی طاقت کم ہونے کا خدشہ ہے۔ اپوزیشن کو خاموش کرنے کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو بظاہر درست نظر آنے والے، لیکن گھڑے گئے اعداد و شمار کا سہارا لیا۔ تاہم، ایگزیکٹو کے زبانی بیان قانون کی تحریری دفعات پر غالب نہیں آ سکتے۔

ذیل میں وزیر داخلہ کی تقریر کے اہم دعووں کی پڑتال کی گئی ہے؛

دعویٰ 1-’تقریباً 50فیصد اضافہ ہوگا… تمل ناڈو کو کوئی نقصان نہیں… کیرالا کے 30 ارکان پارلیامنٹ ہوں گے۔

حقیقت: یہ قانونی طور پر ایک مفروضہ اور ریاضیاتی طور پر ناممکن ہے۔

وزیر داخلہ نے بار بار کہا کہ تمام ریاستوں میں 50فیصد کی یکساں بڑھوتری ہوگی۔ لیکن یہ فارمولہ نہ تو حد بندی بل 2026 میں موجود ہے اور نہ ہی آئینی ترمیمی بل میں۔

قانون کیا کہتا ہے؟ حد بندی  کے نئے بل کی دفعہ 8 کے مطابق، نشستوں کی تقسیم ’تازہ ترین مردم شماری کے اعداد و شمار‘کی بنیاد پر ہوگی۔ جبکہ آئین کے آرٹیکل 81(2)(اے)کے مطابق، تمام ریاستوں میں آبادی اور نشستوں کا تناسب برابر ہونا چاہیے۔

ان دونوں شرائط کو ایک ساتھ نافذ کرنا ممکن نہیں ہے۔ 1971 کے بعد اتر پردیش کی آبادی تیزی سے بڑھی ہے، جبکہ کیرالا کی تقریباً مستحکم رہی۔ اگر دونوں ریاستوں میں 50فیصد کی یکساں بڑھوتری کی جائے، تو اتر پردیش کے رکن پارلیامنٹ کے حصے میں کیرالا کے رکن کے مقابلے میں کہیں زیادہ لوگ آئیں گے، جو آرٹیکل 81 کی خلاف ورزی ہوگی۔

اگر کمیشن واقعی تازہ ترین مردم شماری کی بنیاد پر یکساں تناسب برقرار رکھتا ہے، تو ہندی بیلٹ کی ریاستوں کو غیر متناسب طور پر زیادہ نشستیں ملیں گی۔ اس صورت میں 50فیصد کی یکساں بڑھوتری کا دعویٰ قائم نہیں رہ سکتا۔

دعویٰ 2-’تمل ناڈو کی حصہ داری  7.18فیصد سے بڑھ کر 7.23فیصد ہو جائے گی… جنوبی ریاستوں کے ارکان پارلیامنٹ کا حصہ تقریباً 24فیصد ہوگا۔

حقیقت: یہ اعداد و شمار کسی مردم شماری پر مبنی نہیں ہیں۔

وزیر داخلہ نے مستقبل کی 816 نشستوں والی لوک سبھا کے لیے اعشاریہ تک درست فیصد بتائے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جنوبی ریاستوں کا حصہ محفوظ ہے۔ کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ حساب 2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار پر مبنی ہوگا۔

لیکن یہ حساب آبادی کی بنیاد پر نہیں کیا گیا۔

اگر حکومت 2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر، آئینی اصول (ہر نشست پر برابر آبادی) نافذ کرتے ہوئے 816 نشستوں کی تقسیم کرتی، تو جنوبی ریاستوں کا حصہ کافی کم ہو جاتا۔ 1971 سے 2011 کے درمیان ملک کی کل آبادی میں جنوب کا تناسب کم ہوا ہے۔

تو پھر وزیر داخلہ تمل ناڈو کے لیے 7.23فیصد کا عدد کیسے لائے؟

انہوں نے آبادی کے اعداد و شمار استعمال ہی نہیں کیے۔ انہوں نے تمل ناڈو کی موجودہ (1971 کی بنیاد پر) 39 نشستوں کو 1.5 سے ضرب دیا (39 × 1.5 = 58.5)، جسے بڑھا کر 59 نشستیں مان لیا۔

اس کے بعد 59 کو مجوزہ کل 816 نشستوں سے تقسیم کیا؛

59 ÷ 816 = 7.23فیصد

یہ ایک بڑے دوہرے ابہام کو ظاہر کرتا ہے۔

اول، وزیر داخلہ پارلیامنٹ میں یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ان کے تسلی بخش اعداد و شمار’ 1.5 گنا‘اضافے کے فارمولے پر مبنی ہیں۔

دوم اور سب سے اہم، یہ فارمولہ اسی بل کے تحت غیر قانونی ہے جس کا وہ دفاع کر رہے ہیں۔ حد بندی بل کی دفعہ 8 صاف طور پر کہتی ہے کہ نشستوں کی تقسیم’تازہ ترین مردم شماری کے اعداد و شمار‘کی بنیاد پر ہوگی۔ اس میں کہیں بھی موجودہ نشستوں کو 1.5 سے ضرب دینے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

یعنی، ایک طرف وزیر داخلہ پارلیامنٹ کو ایسے ریاضیاتی ماڈل سے مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو آبادی کو نظرانداز کرتا ہے، اور دوسری طرف ایسا قانون لایا جا رہا ہے جس میں سیاسی طاقت طے کرنے کی واحد بنیاد ہی آبادی ہے۔

وہ ایک طرح سے بھرم پیدا کر رہے ہیں، جبکہ اصل نظام  کوقانون کے اندر چھپایا جا رہا ہے۔

دعویٰ 3’میں وزیر کے طور پر یہ وضاحت باضابطہ طور پر پیش کر رہا ہوں۔

حقیقت: تقریر قانون کی جگہ نہیں لے سکتی۔

آئینی نظام میں کسی وزیر کی زبانی یقین دہانی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی، اگر وہ قانون کی تحریری دفعات کے خلاف ہو۔

حدبندی کمیشن اور سپریم کورٹ قانون کی تشریح اسی بنیاد پر کریں گے جو سرکاری گزٹ میں لکھا ہے، نہ کہ اس پر جو اپوزیشن کو مطمئن کرنے کے لیے پارلیامنٹ میں کہا گیا۔

اگر حکومت واقعی جنوبی ریاستوں کی تقریباً 24 فیصد حصے داری کو محفوظ رکھنا چاہتی، تو اسے آئینی ترمیمی بل میں ایک واضح شق شامل کرنی چاہیے تھی کہ ریاستوں کے درمیان نشستوں کا تناسب 1971 کی سطح پر برقرار رہے گا۔

لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے بجائے، اس نے ایسی شق شامل کی ہے جو مردم شماری کی بنیاد کو ’ان فریز‘کرتی ہے۔

دعویٰ 4لوک سبھا کو 850 نشستوں تک بڑھانا صرف 33 فیصد خواتین  ریزرویشن کو نافذ کرنے کے لیے ہے۔

حقیقت: اقتدار کے توازن میں تبدیلی کو خواتین کے حقوق کے پردے میں پیش کیا جا رہا ہے۔

حکومت ایک ترقی پسند مطالبہ، یعنی خواتین ریزرویشن، کو ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ لوک سبھا کی بڑی توسیع کو ’ناری شکتی‘سے جوڑ کر ایک اخلاقی ڈھال تیار کی جا رہی ہے۔

لیکن اس توسیع کی سیاسی معیشت پر نظر ڈالیں تو تصویر مختلف دکھائی دیتی ہے۔ لوک سبھا کی نشستیں بڑھا کر 850 کرنے سے 300 سے زیادہ اضافی نشستوں کا ایک بڑا’سرپلس‘بنتا ہے۔ اس سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ جنوبی ریاستوں کی کل نشستوں کی تعداد چاہے کم نہ ہو (جیسے کیرالہ کی 20 نشستیں برقرار رہیں یا بڑھ کر 30 ہو جائیں)، لیکن ان کا تناسب (فیصد) کم ہو جائے گا۔

یہ ایک طرح کی سیاسی چال ہے، جس سے علاقائی اتحادی جماعتوں جیسے چندربابو نائیڈو کو اپنے ووٹروں کے سامنے یہ کہنے کا موقع مل سکے کہ ’ہماری نشستیں کم نہیں ہوئیں۔‘

لیکن پارلیامنٹ میں اصل طاقت نشستوں کی مجموعی تعداد سے نہیں بلکہ ان کی حصہ داری سے طے ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے لوک سبھا کی توسیع ایک طرح کا’ اینستھیزیا‘ہے، تاکہ جنوبی ریاستوں کو اپنی سیاسی حصے داری میں کمی کا اثر فوری طور پر محسوس نہ ہو۔

دعویٰ 5’ہم نے حدبندی کمیشن کے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں کی… ہم اس میں کوئی رد و بدل نہیں کریں گے۔

حقیقت: رد و بدل کمیشن میں نہیں، بلکہ آئین کی سطح پر کیا جا رہا ہے۔

وزیر داخلہ نے اپوزیشن کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے حدبندی کمیشن کے قانون کے ڈھانچے میں ایک ’نقطہ یا کاما تک‘کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔

لیکن یہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے والی بات ہے۔ رد و بدل کا اصل ذریعہ خود کمیشن نہیں، بلکہ اسے دیا گیا اختیار ہے۔ آئینی (131ویں ترمیم)  بل لا کر حکومت 1971 سے نافذ آبادی پر مبنی استحکام کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یعنی کمیشن کے کام شروع کرنے سے پہلے ہی تبدیلی کی سمت آئین میں طے کر دی گئی ہے۔ ایسے میں حدبندی کمیشن صرف ایک انتظامی ذریعہ بن جاتا ہے، جو پہلے سے طے شدہ نتیجے کی طرف جھکے ہوئے آبادیاتی تغیر کو نافذ کرتا ہے۔

اس کے علاوہ، لوک سبھا کی نشستیں بڑھا کر 850 کرنے سے نئے حلقوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔ ایسے میں 300 نئے حلقوں کی حد بندی اس طرح کرنا کہ حکمران جماعت کو فائدہ ہو، موجودہ 543 نشستوں میں تبدیلی کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسانی سے چھپایا جا سکے گا۔

آخر میں، وزیر داخلہ نے کہا کہ 1.3 ارب لوگوں کے مینڈیٹ کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکتا۔ لیکن یہاں ایک دانستہ ابہام پیدا کیا جا رہا ہے۔ حکومت یہ نہیں بدل رہی کہ لوگ کیسے ووٹ دیتے ہیں، بلکہ یہ بدل رہی ہے کہ ان کے ووٹ کی ’قدروقیمت‘کیا ہوگی۔

نئی مردم شماری کی بنیاد کو بغیر کسی متناسب تحفظ کے نافذ کرنے سے قانون کے ذریعے جنوبی ریاستوں کے ووٹ کی اہمیت اسٹرکچرل طور پر کم ہو سکتی ہے۔

اس طرح یہ تقریر وضاحت دینے کے بجائے ایک منظم گمراہ کن پیشکش کے طور پر سامنے آتی ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...