سنگھ کی صد سالہ تقریب کے اشتہارات پر وزارت ثقافت نے 76 لاکھ روپے خرچ کیے، سکریٹری بولے- فیصلہ وزیر داخلہ کی کمیٹی کا

AhmadJunaidJ&K News urduApril 17, 2026361 Views


ایک آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں وزارت ثقافت نے بتایا کہ اس نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے صد سالہ جشن کے اشتہارات پر 76 لاکھ روپے خرچ کیے۔ دی وائر سے بات چیت میں وزارت کے سکریٹری نے اسے معمول کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں کا فیصلہ وزیر داخلہ کی سربراہی والی ایک کمیٹی کرتی ہے۔

علامتی تصویر بہ شکریہ: وکی میڈیا کامنس

نئی دہلی:مرکزی حکومت کی وزارت ثقافت نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے 100 سال مکمل ہونے پر مختلف پرنٹ میڈیا میں اشتہارات پر 76,13,129 روپے خرچ کیے ہیں۔ یہ جانکاری آر ٹی آئی کے تحت سامنے آئی ہے۔

مہاراشٹر کے امراوتی سے تعلق رکھنے والے اجئے بسودیو بوس نے آر ٹی آئی کے تحت دائر درخواست میں وزارت سے پوچھا تھا کہ آر ایس ایس کی صد سالہ تقریب کے موقع پر مختلف پرنٹ میڈیا میں اشتہارات پر کل کتنا خرچ کیا گیا۔ اس درخواست کا جواب 13 اپریل 2026 کو وزارت ثقافت کے انڈر سکریٹری اور مرکزی عوامی اطلاعاتی افسر (سی پی آئی او) پپونجے کمار نے دیا۔

اپنے جواب میں وزارت نے واضح کیا کہ آر ایس ایس کے 100 سال مکمل ہونے پر مختلف پرنٹ میڈیا میں دیے گئے اشتہارات پر کل 76,13,129 روپے خرچ کیے گئے۔ جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ خرچ براہ راست وزارت ثقافت نے اٹھایا۔

غور طلب ہے کہ یہ رقم صرف پرنٹ میڈیا میں دیے گئے اشتہارات کے اخراجات سے متعلق ہے، آر ایس ایس کے صد سالہ جشن کے  انعقاد پر ہونے والےمجموعی خرچ سے نہیں۔ یہ تقریب 1 اکتوبر 2025 کو وزارت ثقافت کے زیر اہتمام منعقد ہوئی تھی، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی شریک ہوئے تھے۔

آر ایس ایس کا قیام 27 ستمبر 1925 کو ناگپور میں عمل میں آیا تھا اور 2025 میں اس نے اپنے 100 سال مکمل کیے۔ یہ تنظیم خود کو ثقافتی قوم پرستی کا علمبردار کہتی ہے، جبکہ ناقدین اسے ’ہندوتوا‘کی آئیڈیالوجی پر مبنی تنظیم مانتے ہیں، جو ہندوستان کو ایک ہندو راشٹر کے طور پر دیکھنے کی وکالت کرتی ہے۔

آر ایس ایس کے 100 سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں کئی پروگرام، تقاریب اور تشہیری سرگرمیاں منعقد کی گئیں۔ تاہم، اب یہ سامنے آیا ہے کہ ان سرگرمیوں کی تشہیر میں مرکزی حکومت کی ایک وزارت نے بھی مالی کردار ادا کیا۔

وزارت ثقافت نے کیا کہا؟

اس حوالے سے حکومت کا مؤقف جاننے کے لیے وزارت ثقافت کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (میڈیا و مواصلات) ایم انادورئی کو یہ سوال ارسال کیے گئے؛


کیا وزارت ثقافت کے پاس کسی نظریاتی یا غیر سرکاری تنظیم کے پروگراموں کی تشہیر کے لیے سرکاری فنڈ خرچ کرنے کی کوئی واضح پالیسی یا رہنما اصول موجود ہیں؟

آر ایس ایس کے 100 سالہ پروگرام کے لیے اشتہارات جاری کرنے کا فیصلہ کس سطح پر لیا گیا؟

کن معیارات کی بنیاد پر آر ایس ایس کے لیے اشتہارات دینے کا فیصلہ کیا گیا؟

کیا گزشتہ برسوں میں دیگر سماجی، ثقافتی یا مذہبی تنظیموں کے پروگراموں کے لیے بھی اسی طرح سرکاری اشتہارات جاری کیے گئے ہیں؟ اگر ہاں، تو ان کی تفصیلات کیا ہیں؟

کیا وزارت یہ سمجھتی ہے کہ کسی مخصوص نظریے سے وابستہ تنظیم کی تشہیر پر عوامی فنڈ خرچ کرنا ریاستی غیر جانبداری کے مطابق ہے؟

کیا اس فیصلے میں وزارتی سطح پر کوئی خاص ہدایت یا منظوری شامل تھی؟


ان سوالوں کے جواب ای میل کے ذریعے نہیں ملے، لیکن وزارت کے سکریٹری وجئے اگروال نے فون پر بات کی۔ اس سے پتہ چلا کہ اس طرح کے پروگراموں کا فیصلہ وزیر داخلہ کی سربراہی والی ایک کمیٹی کرتی ہے، اور اسے باضابطہ طور پر وزارت ثقافت نافذ کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت ایک طے شدہ ضابطہ عمل کے تحت اہم تاریخی واقعات، اداروں اور شخصیات کی سالگرہ مناتی ہے؛


وزارت ثقافت میں ایک پروگرام ہے جسے ’صد سالہ تقریبات اور سالگرہ‘کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت ہم اُن شخصیات، اداروں اور واقعات کے 100 سال یا سالگرہ مناتے ہیں، جنہیں نیشنل امپلی منٹیشن کمیٹی (این آئی سی) کی جانب سے اعلان کیا جاتا ہے۔ اس کمیٹی کی صدارت ہندوستان کے وزیر داخلہ کرتے ہیں۔


آر ایس ایس کے صد سالہ جشن اور اس سے متعلق اشتہارات کے بارے میں وزارت کے سکریٹری نے بتایا؛


آر ایس ایس کے 100 سال کا انعقاد بھی ایک صد سالہ تقریب کا حصہ تھا، جسے این آئی سی کی منظوری کے بعد وزارت ثقافت نے سرکاری طور پر منایا۔ جب ہم اس طرح کی کوئی یادگاری تقریب منعقد کرتے ہیں تو اشتہارات جاری کیے جاتے ہیں، ساتھ ہی یادگاری سکے اور ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیے جاتے ہیں۔ آر ایس ایس کے 100 سال مکمل ہونے پر وزیر اعظم کی جانب سے ایک سکہ اور ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا تھا اور ملک بھر کے اخبارات میں اشتہارات بھی دیے گئے تھے۔ یہ ایک طے شدہ ضابطہ عمل ہے جو تمام صد سالہ تقریبات کے لیے اپنایا جاتا ہے۔ یہ وزارت کے سرکاری کام کا حصہ ہے۔


آر ایس ایس کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر بدھ (1 اکتوبر 2025) کو وزیر اعظم نریندر مودی نے خصوصی ڈاک ٹکٹ اور 100 روپے کا یادگاری سکہ جاری کیا۔ (تصویر: پی آئی بی)

وجئے اگروال نے یہ بھی کہا کہ آر ایس ایس کا پروگرام وزارت ثقافت کے ایک باضابطہ سرکاری پروگرام کا حصہ تھا اور اسی وجہ سے آر ٹی آئی کے تحت مانگی گئی معلومات فراہم کی گئیں۔ انہوں نے ایسے دیگر پروگراموں کی مثالیں بھی دیں؛


ہم نے جین منی سوامی وگیانانند کی تنظیم کے 100 سال مکمل ہونے پر تقریب منعقد کی۔ اس کے علاوہ وندے ماترم کے 150 سال اور سردار پٹیل کی صد سالہ تقریب بھی منائی گئی۔ ہدایات کے مطابق، کسی بھی شخصیت یا ادارے کی 25، 50، 75 سال یا 25 کے ضرب والے برسوں کی تقریبات این آئی سی کی منظوری سے منائی جا سکتی ہیں۔ آپ وزارت کی ویب سائٹ پر ایسی فہرست دیکھ سکتے ہیں۔ اس میں سومناتھ پر حملے کے 1000 سال، گرو تیغ بہادر کی شہادت کے 350 سال اور اہلیابائی ہولکر سے متعلق تقریبات بھی شامل ہیں۔


ثقافتی وزیر اور آر ایس ایس

اس تناظر میں موجودہ وزیر ثقافت گجیندر سنگھ شیخاوت کے پس منظر کا ذکر اہم ہو جاتا ہے۔ شیخاوت نے 1992 میں جئے نارائن ویاس یونیورسٹی، جودھپور سے طلبہ یونین کے صدر کے طور پر اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا تھا، جہاں وہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) – جو آر ایس ایس کی طلبہ تنظیم ہے – کے بینر سے منتخب ہوئے تھے۔

بعد کے برسوں میں بھی ان کا تعلق آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں اور سرگرمیوں سے برقرار رہا۔ وہ آر ایس ایس سے منسلک سودیشی جاگرن منچ کا حصہ رہے اور سنگھ کی سیما جن کلیان سمیتی میں بھی فعال رہے۔ اس تنظیم کا مقصد بین الاقوامی سرحدوں کے کنارے ’ثانوی شہری دفاعی لائن‘تیار کرنا بتایا جاتا ہے۔

اکتوبر 2025 میں آر ایس ایس کے صد سالہ پروگرام میں شرکت کے دوران گجیندر سنگھ شیخاوت نے آر ایس ایس کو ’قوم کی تعمیر کی ایک مؤثر درسگاہ‘قرار دیا  تھااور کہا تھا کہ اس تنظیم نے ملک میں نئی توانائی اور سمت پیدا کی ہے۔ اپنی تقریر میں شیخاوت نے سنگھ کی بھرپور تعریف کی تھی۔

یہ کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں لیکن

آر ایس ایس کے 100 سال  مکمل ہونے پر وزارت ثقافت کی جانب سے اشتہارات پر ہونے والے خرچ کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ہندوستانی آئین ملک کو ایک سیکولر ریاست قرار دیتا ہے اور اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی خاص نظریے یا تنظیم کی حمایت نہ کرے۔ تاہم، دی وائر سے بات چیت میں سپریم کورٹ کے وکیل سنجے ہیگڑے کہتے ہیں، ’ایسے معاملوں پر سوال اٹھنا چاہیے، لیکن وزارت ثقافت تو مختلف ایسے پروگراموں پر پیسے خرچ کرتی ہے، جن میں قوالی فیسٹیول بھی شامل ہیں۔ وزارت ثقافت کی کوئی مخصوص سیکولر نظریاتی حد نہیں ہے، اور ایسا کوئی خاص آئینی بندوبست بھی نہیں جو ٹیکس کے پیسے کو کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کرنے سے روکے۔‘

تاہم، ہیگڑے نے یہ بھی واضح کیا کہ تاریخی طور پر ریاستی وسائل کو سیاسی یا فرقہ وارانہ تقریبات سے الگ رکھا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے مثال دی،’جب کانگریس کی حکومت تھی اور کانگریس کے قیام کے 100 سال مکمل ہوئے تھے، تو کیا اس کے لیے سرکاری فنڈز استعمال کیے گئے تھے؟ نہیں، ان چیزوں کو ہمیشہ الگ رکھا جاتا تھا۔‘

ہیگڑے آخر میں کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ خرچ موجودہ قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرتا، لیکن یہ مقتدرہ کی غیر جانبداری اور ریاست کی غیر جانب داری کے حوالے سے سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ اسی لیے مستقبل میں ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے واضح قانون بنایا جانا چاہیے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...