چابی اب بھی خواتین کے ہاتھوں میں ہے!

AhmadJunaidJ&K News urduApril 15, 2026359 Views


خواتین نے اپنے بھتہ کا استعمال پولٹری فارم کھولنے، سلائی مشین خریدنے یا جنرل اسٹور کی چھوٹی موٹی دکانیں کھولنے کے لیے کیا ہے۔ یہ پریشانیاں فوراً ختم نہیں کرتے، لیکن خواب دیکھنے کا موقع ضرور دیتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>خاتون ووٹرس کی فائل تصویر / یو این آئی</p></div><div class="paragraphs"><p>خاتون ووٹرس کی فائل تصویر / یو این آئی</p></div>

i

user

انتخابی ریلیوں میں ممتا بنرجی بار بار سوال کرتی ہیں کہ ’آپ میں سے کتنے لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ہیں؟ ذرا اپنے ہاتھ اوپر اٹھائیں۔‘ اکثر وہ لسٹ سے باہر رہ گئی کچھ خواتین کو اسٹیج پر بلاتی ہیں اور الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ ’خصوصی گہری نظرثانی‘ (ایس آئی آر) پر جان بوجھ کر انہیں ووٹ دینے کے حق سے محروم کرنے کا الزام عائد کرتی ہیں۔ ساتھ ہی وعدہ کرتی ہیں کہ ’’جو لسٹ سے باہر رہ گئے ہیں، انہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ پھر پارٹی کارکنوں سے کہتی ہیں کہ متاثرہ ووٹرس کی مدد کریں تاکہ وہ دوبارہ لسٹ میں شامل ہونے کے لیے اپیل کر سکیں۔

ممتا شاید اس وقت اپنی سب سے مشکل انتخابی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ 3 میعادیں پوری کرنے کے بعد انہیں اقتدار مخالف لہر، کئی ساتھیوں پر لگے بدعنوانی کے الزامات اور روزگار کے مواقع و صنعتی ترقی میں سستی کو لے کر مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ 70 سال سے زیادہ کی ہو چکی ہیں۔ انہیں بی جے پی جیسے ایک طاقتور حریف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ 2016 اور 2021 کے انتخابات میں خواتین نے بڑی تعداد میں ممتا کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اگر یہ رجحان جاری رہتا ہے، تو ان کے اقتدار میں بنے رہنے کے امکانات ہیں۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایسا کریں گی؟

ایس آئی آر نے ریاست میں خاتون ووٹرس کے تناسب میں کافی کمی کر دی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں ایسا پہلی بار ہوا ہے۔ راجیہ سبھا میں دیے گئے ایک جواب میں سامنے آئے الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بنگال میں خاتون ووٹرس کی تعداد 10 سال کی سب سے نچلی سطح پر ہے۔ ایس آئی آر کے بعد جنس کا تناسب 2024 کی لوک سبھا ووٹر لسٹ میں فی 1,000 مردوں پر تقریباً 966 خواتین سے گھٹ کر 956 رہ گیا ہے۔

ووٹر لسٹ سے ان ناموں کو ہٹانے کا انتخابی نتائج پر کیا اثر پڑے گا؟ ترنمول کانگریس کی لیڈر اور راج وزیر چندریما بھٹاچاریہ بے باک انداز میں کہتی ہیں کہ ’’الیکشن کمیشن نے قصداً خاتون ووٹرس کو نشانہ بنایا ہے۔ ہمارے بوتھ سطح کے ایجنٹس کو سماعتی اجلاس میں ووٹرس کی مدد نہیں کرنے دی گئی۔‘‘ وہ بتاتی ہیں کہ ’منطقی تضاد‘ کی اس نئی قسم کا ذکر تب نہیں کیا گیا، جب ایس آئی آر عمل شروع ہوا۔ ان کا الزام ہے کہ اسے بعد میں صرف حقیقی ووٹرس کے نام ہٹانے کے ارادے سے شامل کیا گیا تھا، اور انہیں پورا بھروسہ ہے کہ یہ سازش کامیاب نہیں ہوگی۔

سیاسی تجزیہ کار اور ماہر تعلیم پروفیسر وشوناتھ چکرورتی مانتے ہیں کہ ایس آئی آر انتخابی حساب میں غیر یقینی کی ایک نئی سطح جوڑ دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’مسلم ووٹرس کے نام کاٹے جانے کے مقابلے جنسی تناسب میں کمی ترنمول کانگریس کے لیے زیادہ بڑی سر درد ہے۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس کا اثر ان سیٹوں پر پڑ سکتا ہے جہاں مقابلہ قریبی ہوگا۔ پھر بھی انہیں امید ہے کہ زیادہ ووٹنگ اور خواتین کا متحد ہونا ممتا کو کھوئی ہوئی زمین واپس پانے میں مددگار ہوگا۔

ممتا کے عوامی فلاح پر مبنی رخ کی بائیں بازو اور دائیں بازو، دونوں نے صنعت کے مقابلے اقتصادی مدد کو ترجیح دینے کے لیے تنقید کی ہے۔ لیکن اس کا اثر یہ ہے کہ ممتا کے خاتون ووٹرس کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور بہار جیسی بی جے پی حکمراں ریاستوں میں ’لاڈلی بہنا‘ اور ’لاڈکی بہن‘ جیسی عارضی اور عین ووٹنگ سے قبل کی جانے والی نقد منتقلی کے برعکس ممتا کی اسکیمیں منظم، منصوبہ بند اور بجٹ بند ہوتی ہیں۔

ایک اور اہم فرق مشاورتی عمل ہے۔ ترنمول کانگریس کے پہلے وزیر خزانہ اور معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر امیت مترا کو 2013 میں ’کنیاشری‘ اسکیم شروع کرنے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔ یہ ایک مشروط نقد منتقلی اسکیم ہے، جس کا مقصد کم عمری کی شادی کو روکنا ہے۔ جو لڑکیاں اسکول جاتی ہیں اور غیر شادی شدہ رہتی ہیں، انہیں سالانہ وظیفہ ملتا ہے، اعلیٰ ثانوی تعلیم مکمل کرنے پر رقم بڑھ کر 25,000 ہو جاتی ہے۔ اس اسکیم کی تعریف اقوام متحدہ نے بھی کی ہے اور ریاستی حکومت کے دعوے کے مطابق اس سے ایک کروڑ لڑکیوں کو فائدہ ملا ہے۔

اس کے بعد ’روپ شری‘ (2018) منصوبہ آیا، جس میں غریب خاندانوں کی بالغ خواتین کی شادی کے لیے 25,000 روپے کی مدد دی جاتی ہے۔ 2021 میں ’لکشمیر بھنڈار‘ اسکیم آئی جس میں تقریباً 2.4 کروڑ خواتین شامل ہیں۔ یہ 25 سے 60 سال کی تمام اہل خواتین کے لیے ایک عالمی نقد منتقلی اسکیم ہے۔ یہ عام زمرے کے لیے 500 روپے سے لے کر ایس سی/ایس ٹی خواتین کے لیے 1,700 روپے تک ہے اور خواتین کے کھاتوں میں باقاعدہ منتقل کیا جاتا ہے۔

یہ نقد منتقلی، ضعیفی اور بیوہ پنشن کے علاوہ ہیں۔ ساتھ ہی عالمی صحت بیمہ اسکیم ’سواستھیہ ساتھی‘ (2016)، (جو ’آیوشمان بھارت‘ سے بہت پہلے شروع ہوئی اور جس میں خاندان کا کارڈ خواتین کے کنٹرول میں رہتا ہے) اسکول جانے والے لڑکے لڑکیوں کو سائیکل دینے والی اسکیم ’سبوج ساتھی‘ (2025) اور بیت الخلا و گھر بنانے کے لیے دیے جانے والے گرانٹ بھی اس میں شامل ہیں۔

اسمبلی انتخابات سے مہینوں قبل ریاستی حکومت نے ان اسکیموں کے تحت دی جانے والی رقم بڑھا دی ہے۔ اس کے علاوہ 26-2025 کے بجٹ میں خواتین سے متعلق خصوصی اسکیموں کے لیے 1.18 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ اور بچوں سے متعلق اسکیموں کے لیے 59,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ خواتین و اطفال ترقی محکمہ کا بجٹ بھی بڑھا کر 38,000 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ ’آشا‘ فرنٹ لائن صحت کارکنوں کا معاوضہ بڑھایا گیا ہے، اور حال ہی میں شروع کی گئی ’یووا ساتھی‘ اسکیم کے تحت 21 سے 40 سال کے بے روزگاروں کو 5 سال تک ہر ماہ 1,500 روپے دیے جائیں گے۔ علاوہ ازیں ’مکتی دھارا‘ جیسے دیگر پروگرام دیہی اور قبائلی خواتین کو چھوٹے کاروبار کے لیے مدد دے کر بااختیار بناتے ہیں، جبکہ ’مہیلا سمردھی یوجنا‘ درج فہرست ذاتوں اور حاشیے پر موجود خواتین کاروباریوں کو قرض اور سبسڈی دیتی ہے۔

زمینی سطح پر فرق صاف نظر آتا ہے۔ پھولوں کا کاروبار کرنے والی دیپالی سانترا کے شوہر کی وبا کے دوران ڈرائیوری کی ملازمت چلی گئی تو دیدی نے انہیں مشکل سے نکالا۔ اب انہوں نے اپنے کاروبار کو بڑھاتے ہوئے بوتل بند پانی، ستو کا شربت اور ناشتہ فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کے بیٹے سرجیت کہتے ہیں کہ ’’ہم دیدی کے شکر گزار ہیں۔ ممتا بنرجی نے میری ماں کو مشکلات سے لڑنے کی ہمت دی۔‘‘

کولکاتا کی ایمہرسٹ اسٹریٹ پر پوجا گھوش سڑک کنارے اسٹال چلاتی ہیں، جہاں وہ سندور، اگربتی اور مالائیں بیچتی ہیں۔ یہ اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ خواتین کو ملنے والی اقتصادی مدد کس طرح ان کی روزی روٹی چلانے میں مددگار ہوتی ہے۔

ترنمول کی راجیہ سبھا رکن رچنا بنرجی، ’زی بنگلہ‘ پر نشر ہونے والے مقبول ٹی وی شو ’دیدی نمبر 1‘ کی میزبانی کرتی ہیں۔ اس میں ہمت اور لگن سے کامیابی حاصل کرنے والی خواتین کی کہانیاں دکھائی جاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’گاؤں کی کئی خواتین نے اپنے وظیفے کا استعمال پولٹری فارم شروع کرنے، سلائی مشین خریدنے یا چھوٹی موٹی کرانہ دکانیں کھولنے کے لیے کیا ہے۔ یہ وظیفے فوری مشکلات تو ختم نہیں کرتے، لیکن خواتین کو منصوبہ بنانے، بچت کرنے اور خواب دیکھنے کا موقع ضرور دیتے ہیں۔‘‘

آزاد مبصر سدیپتا سین گپتا کہتی ہیں کہ ’’ممتا جانتی ہیں کون سے مسائل اہم ہیں، اور انہوں نے اپنی کور ٹیم سے رائے لے کر ان اسکیموں کو تیار کیا۔‘‘ تاہم، سب لوگ نہیں مانتے کہ یہ نقد منتقلی ڈاکٹر مترا کے تجویز کردہ فارمولے کے مطابق دی ہو رہی ہیں۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کی سابق کونسلر نیاتی داس گپتا ان اسکیموں کی وجہ سے کم عمری کی شادیوں کو فروغ ملنے پر تشویش ظاہر کرتی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار سوجیت چٹرجی کا ماننا ہے کہ جہاں بی جے پی زیادہ رقم کے وعدے کے ساتھ شہری اور نوجوان خواتین کے ایک طبقے میں جگہ بنا سکتی ہے، وہیں دیہی علاقوں کی بیشتر خواتین ممتا کے تئیں وفادار رہیں گی۔

بی جے پی کے سامنے اعتبار کا بھی بحران ہے اور یہ حال ہی میں تب واضح ہوا جب ایک نوجوان نے ای رکشہ سے مہم چلا رہے بی جے پی کارکنوں پر جھوٹے وعدے پھیلانے کا الزام لگایا اور بی جے پی کی اس دہلی اسکیم کو نافذ کرنے میں ناکامی کا ذکر کیا، جس میں خواتین کو ہر ماہ 3,000 روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس نے کہا کہ ’’آپ لوگوں کو گمراہ کیوں کر رہے ہیں؟‘‘

ووٹرس کے رجحان کو الگ رکھ کر بات کریں تو تمام سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس انتخاب کا نتیجہ ایس آئی آر سے متعلق عمل، تنازعات کے نمٹارے کے لیے طے کردہ ناممکن وقت کی حدوں اور آخری ووٹر لسٹ میں کتنے لوگوں کو جگہ ملتی ہے، جیسی باتوں پر منحصر کرے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...