سمراٹ چودھری وزیر اعلیٰ، وجے چودھری اور وجیندر یادو نائب وزیر اعلیٰ منتخب

AhmadJunaidJ&K News urduApril 15, 2026360 Views


بہار کے نومنتخب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے اپنے سیاسی کیریئر کی شروعات آر جے ڈی سے کی تھی اور جیتن رام مانجھی کی ’ہم‘ پارٹی اور جے ڈی یو سے ہوتے ہوئے بی جے پی میں آئے۔

<div class="paragraphs"><p>بہار کے نومنتخب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری (ویڈیو گریب)</p></div><div class="paragraphs"><p>بہار کے نومنتخب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری (ویڈیو گریب)</p></div>

i

user

سمراٹ چودھری نے بہار کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لے لیا۔ آج صبح پٹنہ کے لوک بھون میں منعقد حلف برداری کی تقریب میں انہوں نے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔ یہ بہار کی تاریخ میں پہلی بار ہے جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے کوئی لیڈر وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھال رہا ہے۔ منگل (14 اپریل) کے روز جنتا دل یونائیٹڈ کے سربراہ نتیش کمار نے بہار کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، انہوں نے سمراٹ چودھری کو ذمہ داری سونپتے ہوئے بہار کے بہتر مستقبل کی امید ظاہر کی۔

واضح رہے کہ حلف برداری کے موقع پر کئی اہم رہنما موجود تھے، جن میں بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین، راجیہ سبھا رکن اور سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار، مرکزی وزیر جے پی نڈا، مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان، جے ڈی یو کے کارگزار صدر سنجے کمار جھا، مرکزی وزیر راجیو رنجن سنگھ (عرف للن سنگھ)، مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی، بی جے پی کے ریاستی صدر سنجے سراوگی، آر ایل ایم کے صدر اوپیندر کشواہا اور ایل جے پی (رام ولاس) کے رکن پارلیمنٹ ارون بھارتی شامل تھے۔ سمراٹ چودھری بہار کے 24 ویں وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں۔

سمراٹ چودھری کے علاوہ جے ڈی یو کوٹے سے 2 نائب وزیر اعلیٰ نے بھی حلف لیا ہے۔ جے ڈی یو سے وجے چودھری اور وجیندر یادو کو نائب وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے، بہار کی سیاست میں یہ بڑی تبدیلی مانی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری اور جے ڈی یو کے دونوں نائب وزرائے اعلیٰ وجیندر یادو اور وجے چودھری کے درمیان ایک خاص یکسانیت ہے۔ دراصل ایک طرف جہاں سمراٹ چودھری کئی پارٹیوں میں رہتے ہوئے بی جے پی میں آئے تھے، دوسری جانب وجے چودھری اور وجیندر یادو بھی دوسری پارٹیوں میں رہ چکے ہیں۔

بہار کے نومنتخب وزیر اعلیٰ نے اپنے سیاسی کیریئر کی شروعات آر جے ڈی سے کی تھی اور جیتن رام مانجھی کی ’ہم‘ پارٹی اور جے ڈی یو سے ہوتے ہوئے بی جے پی میں آئے۔ وجے چودھری نے اپنے سیاسی کیریئر کی شروعات کانگریس پارٹی سے کی تھی۔ حالانکہ بعد میں وہ جے ڈی یو میں چلے آئے اور سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے قریبی بن گئے۔ اسی طرح وجیندر پرساد نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز 1990 میں کیا تھا۔ وہ اس وقت جنتا دل کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ 1990 میں جب لالو پرساد یادو کی مدت کار شروع ہوئی تو انہیں 1991 میں وزیر مملکت برائے توانائی بنایا گیا تھا۔ 1997 میں جب جنتا دل 2 حصوں میں تقسیم ہوئی، تب شرد یادو اور لالو پرساد کے 2 الگ الگ دھڑے بن گئے تھے۔ اس وقت وجیندر یادو نے شرد یادو کا انتخاب کیا اور تب سے وہ جے ڈی یو میں ہی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ نتیش کمار وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑ کر راجیہ سبھا چلے گئے ہیں۔ ان کا بہار سے جانا ایک عہد کا خاتمہ مانا جا رہا ہے، لیکن انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنی رہنمائی جاری رکھیں گے۔ نتیش کمار نے راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر حلف لے کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ وہ بہار کے چھٹے ایسے رہنما بن گئے ہیں جنہوں نے اسمبلی، قانون ساز کونسل، لوک سبھا اور راجیہ سبھا – ان چاروں ایوانوں کی رکنیت حاصل کی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...