ایران نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ایک ممکنہ معاہدہ کو آخری مرحلہ میں آ کر پٹرسی سے اتار دیا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق بات چیت کے دوران امریکہ نے زیادہ سے زیادہ دباؤ بنانے، بار بار شرائط بدلنے (گول پوسٹ شفٹ کرنے) اور ناکہ بندی جیسی حکمت عملیوں کا سہارا لیا، جس سے اتفاق رائے پیدا ہونے کا عمل رک گیا۔ عباس عراقچی کا دعویٰ ہے کہ مجوزہ امن معاہدہ (ایم او یو) تقریباً تیار تھا اور دونوں فریق حتمی اتفاق رائے کے بے حد قریب تھے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان حالات کی وجہ سے 21 گھنٹے تک جاری رہنے والی طویل اور مشکل بات چیت آخر کار بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئی۔ تہران نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر بات چیت کے دوران شرائط میں مسلسل تبدیلیاں نہ کی جاتیں تو یہ معاہدہ ممکن ہو سکتا تھا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لکھا کہ ’’47 سالوں میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے تفصیلی مذاکرات میں، ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی سے بات چیت کی۔ لیکن جب ہم ’ایم او یو‘ سے محض چند قدم کی دوری پر تھے، تو ہمیں گول پوسٹ بدلنے اور ناکہ بندی (بلاکیڈ) کا سامنا کرنا پڑا۔ کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ نیک نیتی سے نیک نیتی جنم لیتی ہے، جبکہ دشمنی سے دشمنی پیدا ہوتی ہے۔‘‘
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ سفارتی پیش رفت کا امکان اب بھی موجود ہے، بشرطیکہ واشنگٹن اپنا نظریہ بدلے۔ انہوں نے امریکہ سے آمریت چھوڑنے اور ایران کے حقوق کا احترام کرنے کی اپیل کی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایسی تبدیلی ایک معاہدے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ آمریت ایک ایسا سیاسی نظام ہے جس میں ریاست عوامی اور ذاتی زندگی کے ہر پہلو پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔
ایرانی صدر پیزشکیان نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں مذاکراتی وفد کے اراکین کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر امریکی حکومت اپنی آمریت چھوڑ دے اور ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرے، تو کسی معاہدے تک پہنچنے کی راہیں ضرور نکل آئیں گی۔‘‘ دوسری جانب امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پیر (13 اپریل) سے ایرانی بندرگاہوں پر آنے جانے والے تمام جہازوں پر مکمل طور پر بحری ناکہ بندی نافذ کرنا شروع کر دے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































