بنگلورو میں منعقدہ کانگریس قانون ساز پارٹی کے میٹنگ میں ڈی کے شیوکمار کو متفقہ طور پر کانگریس قانون ساز پارٹی کا نیا لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی کرناٹک میں نئی حکومت کی تشکیل کا عمل بھی تیز ہو گیا ہے۔ اجلاس میں کانگریس کے تمام اہم اراکین اسمبلی اور پارٹی لیڈران موجود تھے۔ طویل عرصہ سے جاری سیاسی مشاورت کے بعد بالآخر پارٹی نے ڈی کے شیوکمار کے نام پر مہر لگا دی۔ قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب ہونے کے بعد اب شیوکمار کے وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ بھی ہموار ہو گیا ہے۔ ڈی کے شیوکمار کے اس عہدے پر انتخاب کو کرناٹک کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ عہدہ کے مضبوط دعویدار سمجھے جانے والے شیوکمار اب ریاست کی قیادت سنبھالنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے اجلاس کے بعد بتایا کہ کانگریس ہائی کمان نے قانون ساز پارٹی کے لیڈر کے لیے ڈی کے شیوکمار کے نام کی سفارش کی تھی۔ اس کے بعد سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے میٹنگ میں ڈی کے شیوکمار کے نام کی تجویز پیش کی، جس کی تائید کانگریس کے سینئر لیڈر ڈاکٹر جی پرمیشور نے کی۔ اجلاس میں موجود تمام اراکین اسمبلی نے اس تجویز کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ کسی بھی رکن نے اس کی مخالفت نہیں کی، جس کے بعد ڈی کے شیوکمار کو کانگریس قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کر لیا گیا۔
اس بارے میں کے سی وینوگوپال نے کہا کہ انہیں یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ کانگریس قانون ساز پارٹی نے متفقہ طور پر ڈی کے شیوکمار کو اپنا لیڈر منتخب کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ پارٹی ہائی کمان کی سفارش اور تمام اراکین اسمبلی کی رضامندی سے کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ڈی کے شیوکمار طویل عرصہ سے کرناٹک کانگریس کے اہم لیڈران میں شمار ہوتے ہیں اور انہوں نے پارٹی کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اب قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب ہونے کے بعد ان کے وزیر اعلیٰ بننے کے امکانات کافی مضبوط سمجھے جا رہے ہیں۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی کرناٹک میں قیادت کی تبدیلی کا عمل آگے بڑھ گیا ہے۔ کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ نئی حکومت ریاست کی ترقی، انتظامی امور اور عوامی مسائل کے حل کے لیے جلد ہی اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































