پوری دنیا میں جاری کشیدگی اور بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حالات کے درمیان ہندوستان اپنی توانائی کی حفاظت کے لیے پوری طرح تیار نظر آ رہا ہے۔ ہندوستانی حکومت کی 3 اہم وزارتوں (کوئلہ، پٹرولیم اور خارجہ) نے آج مشترکہ طور پر اس تعلق سے معلومات فراہم کی ہیں۔ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ ملک میں نہ تو کوئلے کی کمی ہے اور نہ ہی پٹرول-ڈیزل کی۔ گھریلوں صارفین کی ضرورتوں کا خیال رکھنے کے لیے جہاں ایک طرف سخت فیصلے لیے گئے ہیں، وہیں دوسری جانب صنعتی اداروں کے لیے نئے اصول وضع کیے گئے ہیں۔
ملک میں بجلی کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس مانگ کا تقریباً 70 فیصد حصہ آج بھی کوئلہ پر مبنی پیداوار سے پورا ہوتا ہے۔ وزارت کوئلہ کے افسر سنجیو کمار کسّی نے صورتحال واضح کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کو کسی بھی ممکنہ بجلی بحران سے بچانے کے لیے بہت پہلے سے ہی تیاریاں کر لی گئی تھیں۔ موجودہ وقت میں ملک کے پاس 55 میٹرک ٹن (ایم ٹی) کوئلے کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ یہ اسٹاک آئندہ 24 دنوں تک ملک بھر میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کافی ہے۔ ’کول انڈیا‘ کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں کہ ریاستوں کو ان کی ضرورت کے مطابق کوئلے کی فراہمی یقینی بنائے جائے، تاکہ کسی بھی ریاست کو اندھیرا کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وزارت پٹرولیم کی سُجاتا شرما نے گھریلو صارفین کے لیے راحت بھری خبر دی ہے۔ جنگ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ایک اسٹریٹجک فیصلہ لیا ہے، تاکہ عام آدمی کے رسوئی گھر پر دباؤ نہ بڑھے۔ اب فارما، زراعت، اسٹیل اور ٹیکسٹائل جیسے تقریباً 16 اہم صنعتی شعبوں کو مارچ 2026 سے قبل ان کی اوسط کھپت کا صرف 70 فیصد کمرشل ایل پی جی ہی الاٹ کیا جائے گا۔ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ گھریلو ایل پی جی کی سپلائی معمول کے مطابق جاری رہے۔ اس کے ساتھ ہی وزارت پٹرولیم نے کالابازاری کرنے والوں پر بھی نکیل کسی ہے۔ حالیہ دنوں میں پورے ملک میں ہزاروں چھاپے مارے گئے اور 56000 سے زائد سلنڈر ضبط کیے گئے ہیں۔ لاپرواہی برتنے والے 51 ڈسٹری بیوٹرس کو معطل کر دیا گیا ہے، جس سے واضح طور پر یہ پیغام جاتا ہے کہ سپلائی چین مین کسی بھی طرح کی گڑبڑی برداشت نہیں کی جائے گی۔
توانائی کی حفاظت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سرحدوں پر جاری کشیدگی بھی ہندوستان کے لیے اہم ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ان خبروں کو سرے سے خارج کر دیا ہے، جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ہندوستان ’آبنائے ہرمز‘ سے جہازوں کے گزرنے کے بدلے ایران کو ٹول دینے پر بات چیت کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان ہمیشہ سے بلا تعطل عالمی تجارت اور جہاز رانی کی آزادی کے حق میں رہا ہے۔ ہندوستان نے مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا استقبال کرتے ہوئے امن کی اپیل کی ہے، کیونکہ یہ کشیدگی نہ صرف انسانی بحران پیدا کر رہا ہے بلکہ عالمی توانائی نیٹورک کو بھی متاثر کر رہا ہے۔



































