
تصویر بہ شکریہ: پی آئی بی
نئی دہلی: یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے تمام جامعات کے وائس چانسلر کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی چاہتے ہیں کہ جامعات مختلف سرکاری سروے میں حصہ لیں اور اپنے صحافتی نصاب کا جائزہ لیں تاکہ اسے ’مزید مؤثر‘ بنایا جا سکے۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق، اس خط میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پی ایم مودی صحافت کے نصاب میں کون سی مخصوص تبدیلیاں چاہتے ہیں یا جامعات کو سروے میں کیوں اور کس طورپر شامل ہونا چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ یہ خط وزارت تعلیم کی ہدایات پر یو جی سی کے سکریٹری منیش آر جوشی نے لکھا ہے۔ اس خط کا موضوع ہے؛’سروے اور صحافتی نصاب کے جائزے میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی شرکت کے حوالے سے معزز وزیر اعظم کی تجویز۔ ‘
خط میں کہا گیا ہے،’جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو حکومتِ ہند، وزارتوں/محکموں کے تحت کیے جانے والے مختلف سروے میں چیلنج کی بنیاد پر شامل کیا جا سکتا ہے۔ انہیں بعض سروے خود انجام دینے کی ذمہ داری بھی سونپی جا سکتی ہے۔‘
واضح ہو کہ شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) کے تحت نیشنل سیمپل سروے آفس (این ایس ایس او) کے زیر اہتمام کیے جانے والے سروے اور قومی خاندانی صحت سروے جو وزارت صحت و خاندانی بہبود کے تحت منعقد کیا جاتا ہے، وقتاً فوقتاً کیے جاتے ہیں۔
خط میں مزید کہا گیا ہے، ’صحافت کے نصاب کا جائزہ لیا جائے تاکہ اسے مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ یو جی سی اور آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے اداروں کو اس حوالے سے مناسب رہنمائی فراہم کریں۔‘
تاہم، خط میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تمام کورسز کے طلبہ یا صرف مخصوص کورسز کے طلبہ کو سروے میں شامل ہونا چاہیے یا نہیں، اور کیا انہیں فیلڈ ورک، تجزیہ یا دونوں کام کرنا چاہیے۔





