سماجوادی پارٹی چلا رہی خواتین کے درمیان زمین تلاش کرنے کی مہم

AhmadJunaidJ&K News urduApril 2, 2026363 Views


سماجوادی پارٹی نے اپنی آنجہانی رکن پارلیمنٹ پھولن دیوی کی بڑی بہن رکمنی نشاد کو ’یوپی سماجوادی مہیلا سبھا‘ کی ذمہ داری سونپی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>خاتون ووٹرس کی فائل تصویر / یو این آئی</p></div><div class="paragraphs"><p>خاتون ووٹرس کی فائل تصویر / یو این آئی</p></div>

i

user

ممتا گوتم گھریلو مزدور ہیں، کسان ہیں اور ایک تحریک کار بھی ہیں۔ دلت سماج سے تعلق رکھنے والی ممتا اپنی زمین بچانے کے لیے اڈانی کے خلاف چل رہی تحریک کی قیادت کر رہی ہیں۔ روزی روٹی کے لیے وہ دوسروں کے گھروں میں ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ممتا ان 26 خواتین میں شامل ہیں جنہیں 22 مارچ کو لکھنؤ میں سماجوادی پارٹی کے دفتر میں مورتی دیوی-مالتی دیوی اعزاز سے نوازا گیا۔ مورتی دیوی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کی دادی اور مالتی دیوی ان کی والدہ تھیں۔ اعزاز حاصل کرنے والی خواتین کی فہرست میں پسماندہ-دلت اور اقلیتی (پی ڈی اے) سماج کی نمایاں موجودگی نظر آتی ہے۔

اعزاز حاصل کرنے والی سنینا دیوی مسہر سماج سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کی شادی بچپن میں ہی ہو گئی تھی اور وہ تعلیم حاصل نہیں کر سکیں۔ اس کے باوجود ان کی کوششوں سے مسہر سماج کے سینکڑوں بچے اسکولی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ پروگرام کی منتظم وندنا مشرا بتاتی ہیں کہ سنینا دیوی کا راستہ آسان نہیں تھا۔ ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی، انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر بھی وہ پیچھے نہیں ہٹیں۔ ممتا گوتم اور سنینا دیوی جیسی خواتین کا مرکزی دھارے میں ذکر اس لیے نہیں ہوتا کیونکہ ان کی نیٹورکنگ نہیں ہے۔

درحقیقت، 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج سے اکھلیش یادو کو یہ یقین ہو گیا ہے کہ پی ڈی اے (پسماندہ، دلت اور اقلیت) پر مشتمل ان کا سماجی مساواتی فارمولہ اتر پردیش اسمبلی انتخاب میں بھی سیاسی فضا کا رخ موڑ سکتا ہے۔ اکھلیش یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جب نمائندگی کی بات آئے گی تو وہ پسماندہ اور دلت طبقات میں خواتین کو موقع دینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

29 مارچ کو گوتم بدھ نگر کے دادری میں منعقد ’سماجوادی سمانتا بھائی چارہ ریلی‘ سے یوپی انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے بھی اکھلیش نے کہا کہ ’’تکلیف ہی وہ دھاگہ ہے جو پی ڈی اے کے لوگوں کو ایک لڑی میں باندھتا ہے۔ ایک طرف متکبر لوگ ہیں جو نظر انداز اور ظلم کرتے ہیں اور دوسری طرف مظلوم اور محروم لوگ ہیں۔ ایسے کمزور اور غریب لوگ ہر ذات اور مذہب میں ہوتے ہیں۔ جس نے ظلم، امتیاز اور استحصال کی تکلیف نہیں برداشت کی وہ ہمدردی تو دکھا سکتا ہے لیکن اس درد کو محسوس نہیں کر سکتا، جو ہمیں اپنے گھر کو گنگا جل سے دھلوائے جانے پر ہوا تھا، یا مندر دھلوائے جانے پر ہم نے محسوس کیا تھا۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ 2017 میں سماجوادی پارٹی کی شکست کے بعد وزیر اعلیٰ رہائش گاہ میں یوگی آدتیہ ناتھ کے داخلہ سے پہلے اسے گنگا جل سے دھلوایا گیا تھا، جبکہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران قنوج کے شیو مندر میں سماجوادی پارٹی کے سربراہ کے درشن کے بعد بی جے پی کارکنوں نے اسے گنگا جل سے دھلوایا تھا۔

اکھلیش اپنی مہم میں ذرا بھی تذبذب کا شکار نظر نہیں آتے۔ حال ہی میں پارٹی نے اپنی آنجہانی رکن پارلیمنٹ پھولن دیوی کی بڑی بہن رکمنی نشاد کو ’یوپی سماجوادی مہیلا سبھا‘ کی ذمہ داری سونپی ہے۔ اس سے قبل 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں پی ڈی اے والے سماجی-سیاسی فارمولے کو انہوں نے بنیاد بنایا اور 80 سیٹوں والے اتر پردیش میں پارٹی نے کانگریس کے ساتھ اتحاد میں 43 سیٹیں جیت لیں۔ اس کے پیچھے راہل گاندھی کی ’آئین بچاؤ مہم‘ کی بڑی اہمیت تھی، لیکن اکھلیش نے ٹکٹ تقسیم سے لے کر تنظیمی نمائندگی تک مختلف سماجی طبقات کو اپنے موقف کے بارے میں کسی قسم کے شک و شبہ میں نہیں رکھا۔

دادری کی ریلی میں اکھلیش نے اقتدار میں آنے پر ’استری سمان سمردھی یوجنا‘ کے تحت غریب خواتین کو سالانہ 40 ہزار روپے دینے اور ’سماجوادی مہیلا پنشن یوجنا‘ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی 1090 ہیلپ لائن کو مزید بہتر بنا کر خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کی بات کی۔ خواتین کے اعزازی پروگرام میں اکھلیش یادو کے ساتھ کام کر چکے سابق چیف سکریٹری آلوک رنجن نے 1090 ہیلپ لائن، ڈائل 100، سائیکل تقسیم، آشا جوتی یوجنا کے ساتھ ملائم سنگھ کے دور میں شروع ہونے والی کنیا ودیادھن یوجنا کا ذکر کیا اور بتایا کہ سماجوادی پارٹی نے خواتین کی سلامتی اور فلاح کے لیے کس طرح کام کیا ہے۔

سینئر صحافی کمار بھاویش چندر کہتے ہیں کہ 9 سال اقتدار میں رہنے کے باوجود وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ میں یہ اعتماد نہیں ہے کہ وہ مثبت باتوں کی بنیاد پر ووٹ مانگ سکیں۔ وہ اپنی تقریر کے پانچویں یا ساتویں منٹ میں پچھلی حکومتوں کے دور والے نظامِ قانون کی بات کرنے لگتے ہیں، جبکہ اکھلیش یادو کو لگتا ہے کہ پی ڈی اے کے نام پر خواتین بھی ان سے جڑی ہیں، اس لیے وہ نصف آبادی کی بات کرتے ہیں۔

اکھلیش جانتے ہیں کہ یوپی اسمبلی کی 403 نشستوں کے انتخابات میں خواتین ووٹ کتنے فیصلہ کن ہیں۔ اس لیے انہوں نے خواتین کے درمیان اپنے انفلوئنسر/لیڈر قائم کرنا شروع کر دیے ہیں۔ میرٹھ سماجوادی پارٹی کے ضلع نائب صدر سندیپ یادو کہتے ہیں کہ لیڈر یا انفلوئنسر کے طور پر خواتین ووٹرس کے درمیان بھیجے جانے والے لوگوں کی تعداد روز بروز بڑھانے کی منصوبہ بندی ہے۔ اعزازی پروگرام میں موجود ادے پرتاپ سنگھ نے اپنے خطاب میں یہ بھی یاد دلایا کہ ملائم سنگھ یادو نے اپنے سیاسی سفر کے آغاز میں ایک دلت خاتون کی لڑائی لڑتے ہوئے پہلی بار جیل کا سامنا کیا تھا اور مورتی دیوی-مالتی دیوی ایوارڈ سے نوازنے والی خواتین کے پس منظر کو دیکھا جائے تو وہ بیشتر پسماندہ اور دلت طبقہ سے تعلق رکھتی ہیں۔

درحقیقت، یہ مانا جانے لگا ہے کہ انتخاب میں خواتین فائدہ اٹھانے والے طبقہ کے طور پر ذات اور مذہب سے اوپر اٹھ کر بی جے پی کو ووٹ دے رہی ہیں۔ لوک نیتی-سی ایس ڈی ایس پوسٹ پول سروے 2022 کے مطابق بھی خاتون ووٹرس کے درمیان بی جے پی کو سماجوادی اتحاد کے مقابلے میں 13 فیصد کی بڑی برتری حاصل ہوئی۔ ذات اور برادری کے اعتبار سے بی جے پی کے حق میں سب سے بڑا صنفی فرق مبینہ اعلیٰ ذاتوں میں دیکھا گیا، جہاں خواتین نے مردوں کے مقابلے میں (90 فیصد بمقابلہ 83 فیصد) بی جے پی کی زیادہ حمایت کی۔ دیہی خواتین کے درمیان بھی بی جے پی کو سماجوادی پارٹی کے مقابلے میں کہیں زیادہ برتری حاصل رہی اور اس طبقے میں دونوں پارٹیوں کو ملنے والے ووٹوں میں تقریباً 16 فیصد کا فرق رہا۔

سینئر سماجی کارکن اور پروفیسر روپ ریکھا ورما کہتی ہیں کہ خواتین میں یہ شعور زیادہ شدت سے پایا جاتا ہے کہ وہ دلت، پسماندہ یا کسی مخصوص ذات سے تعلق رکھتی ہیں۔ سماج میں عورت کے شوہر کی جو حیثیت ہوتی ہے، اس کا دوہرا اثر عورت کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ دلت طبقہ کی خواتین میں یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے۔ وہ ماضی کے ڈولا رسم کی مثال دیتی ہیں۔ خواتین کے معاملہ میں پروفیسر ورما اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ تکلیف ایک ایسی چیز ہے جو انہیں ایک لڑی میں باندھ سکتی ہے، لیکن یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کس طبقہ سے تعلق رکھتی ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...