
10 مارچ کو حکومت نے اپنی ’ارونودے 3.0‘ اسکیم کے تحت 40 لاکھ خواتین کے کھاتوں میں فی خاتون 9,000 روپے منتقل کیے۔ 3,600 کروڑ روپے کے اس ’ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر‘ (ڈی بی ٹی) میں 4 ماہ کی امدادی رقم اور ’بیہو بونس‘ شامل تھا، جس کا مقصد خواتین کی قیادت والے خاندانوں کو بااختیار بنانا تھا۔ اتنے بڑے پیمانے پر مفت سہولیات کی فراہمی یقیناً بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کے حق میں جا سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی ماننا ہوگا کہ پیسہ، طاقت، جذبات کا استعمال اور حد بندی جیسے انتظامی اقدامات اب تھکا دینے والے اور کم مؤثر دکھائی دے رہے ہیں، کیونکہ آسام کی جین-زی اب مشکل سوالات پوچھنے لگی ہے۔
(مضمون نگار سوربھ سین کولکاتا میں مقیم آزاد مصنف اور تجزیہ کار ہیں)






