
سپریم کورٹ کی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ ہائی کورٹ نے پہلے ہی یہ یقینی بنانے کے لیے حکم جاری کر دیا ہے کہ تمام فریق کے اعتراضات پر فیصلہ لیا جائے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اے ایس آئی نے سائٹ کی ویڈیو گرافی کی ہے اور اپیل کنندہ نے اس دوران کچھ اعتراضات بھی اٹھائے تھے جو ریکارڈ میں درج ہے۔ عدالت نے یقین ظاہر کیا کہ ہائی کورٹ ویڈیو دیکھنے کے بعد ان اعتراضات کو دور کر دے گی، اس لیے موجودہ مرحلہ پر سپریم کورٹ کی مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔





