’کیرالہ کی خواتین ریاست کی اصل طاقت اور ریڑھ کی ہڈی ہیں‘، پڑھیں راہل گاندھی کی تقریر کی 15 بڑی باتیں

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 31, 2026359 Views


راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس ملک میں محبت، بھائی چارہ اور انصاف کی سیاست کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ اب عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ نفرت کی سیاست کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا اتحاد اور ہم آہنگی کے ساتھ۔

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی کیرالہ میں انتخابی تشہیر کے دوران، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia</p></div><div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی کیرالہ میں انتخابی تشہیر کے دوران، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>

i

user

کیرالہ میں اسمبلی انتخاب کے پیش نظر راہل گاندھی انتہائی سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ آج دن بھر راہل گاندھی ریاست میں انتخابی تشہیر کرتے ہوئے نظر آئے اور مرکز کی مودی حکومت کے ساتھ ساتھ ریاست کی پینارائی وجین حکومت کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے 31 مارچ کو کنور سے انتخابی تشہیر کا آغاز کیا، اور پھر کلاچی، پیرامبرا، کوئیلانڈی میں لوگوں کی زبردست بھیڑ سے خطاب کیا۔ اپنی تقاریر میں راہل گاندھی نے ریاست کی سماجی ہم آہنگی و عوامی یکجہتی، مرکزی و ریاستی حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں، ریاستی خواتین کے جذبۂ ایثار و ہمدردی، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ اور ایپسٹین فائلز سمیت کئی اہم ایشوز پر اپنی بات رکھی۔ مختلف تقاریب میں کیے گئے خطاب کی اہم باتیں 15 نکات میں نیچے پیش کی جا رہی ہیں۔

  1. کانگریس ملک میں محبت، بھائی چارہ اور انصاف کی سیاست کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ اب عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ نفرت کی سیاست کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا اتحاد اور ہم آہنگی کے ساتھ۔

  2. لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ اور بی جے پی سماج کو تقسیم کرتے ہیں۔ یہ پارٹیاں نفرت اور تشدد کی سیاست پر یقین رکھتی ہیں۔ یہ رویہ کیرالہ کی اصل روح کے خلاف ہے۔

  3. کیرالہ کی خواتین ریاست کی اصل طاقت اور ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ کیرالہ کی نرسیں پوری دنیا میں خدمت، ہمدردی اور انسانیت کی مثال ہیں۔ ان نرسوں کی وجہ سے میں اپنی والدہ کی دیکھ بھال کے معاملے میں مطمئن رہتا ہوں۔ ہم سب ان کی قربانی، لگن اور مہربانی کے مقروض ہیں۔

  4. کیرالہ کی عوام نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے اور مجھ پر احسان کیا ہے۔ بطور رکن پارلیمنٹ میں نے کیرالہ کی عوام کی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی کو قریب سے دیکھا۔ کیرالہ کے لوگ تمام مذاہب اور روایات کا احترام کرتے ہیں۔ یہ تجربہ میرے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔

  5. دنیا ایک غیر یقینی دور میں داخل ہو رہی ہے، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کے حالات کے سبب۔ ان حالات میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ یقینی ہے۔ مہنگائی میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ پی ایم مودی اور کیرالہ کے وزیر اعلیٰ کے پاس اس صورت حال سے نمٹنے کا کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔

  6. ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدہ ملک کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس معاہدے سے ہندوستانی زراعت کو امریکی کسانوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ اس سے چھوٹے کسان جدید امریکی زراعت کے سبب بہت متاثر ہوں گے۔ ربڑ، مکئی اور سویا کے کسان خاص طور پر نقصان اٹھائیں گے۔ اس معاہدے سے ہندوستان کی توانائی سے متعلق خود مختاری کمزور ہوئی ہے۔

  7. ہندوستان اب امریکہ کی اجازت کے بغیر روس، ایران اور عراق سے تیل نہیں خرید سکتا۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔ موجودہ عالمی منظرنامہ کی وجہ سے ہندوستانی معیشت پر دباؤ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے عام آدمی کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور آگے مزید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  8. امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ نریندر مودی نے انہیں ’سر‘ کہا۔ ٹرمپ جب چاہیں وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کے پاس مودی پر دباؤ ڈالنے کی طاقت موجود ہے۔

  9. بی جے پی ملک میں نفرت اور تقسیم کی سیاست کرتی ہے اور مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ وزیر اعظم مودی کی تقریروں میں اکثر مذہب، دیوی دیوتا اور مندروں کا ذکر ہوتا ہے، لیکن سبریمالا مندر کے معاملے پر وزیر اعظم خاموش رہے۔

  10. مودی کی شبیہ کو بنانے پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ یہ شبیہ ایک غبارے کی طرح ہے جسے کبھی بھی پھوڑا جا سکتا ہے۔

  11. یہ انتخاب 2 نظریات کے درمیان مقابلہ ہے۔ کیرالہ کے لوگ نفرت کے مقابلے میں محبت کو ترجیح دیتے ہیں، غرور کے مقابلے میں عاجزی کو اہمیت دیتے ہیں، غصے کے مقابلے میں خوشی کو پسند کرتے ہیں اور تقسیم کے مقابلے میں اتحاد کو ترجیح دیتے ہیں۔

  12. میں پارلیمنٹ میں ایپسٹین معاملے پر سوال اٹھانا چاہتا ہیں۔ لیکن جیسے ہی میں سوال کرتا ہوں، وزیر اعظم ایوان چھوڑ دیتے ہیں۔ ایپسٹین فائلوں میں اہم راز چھپے ہوئے ہیں جو عوام کے سامنے آنے چاہئیں۔ ان فائلوں میں طاقتور لوگوں سے متعلق حساس معلومات موجود ہیں۔ کانگریس اس معاملے کو عوام کے سامنے لانے کے لیے پرعزم ہے۔

  13. میں اڈانی معاملہ پر بھی مسلسل سوال اٹھاتا رہا ہوں لیکن جو جواب دیے جا رہے ہیں ان میں شفافیت کی کمی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ حکومت اڈانی سے متعلق سوالات کے جواب دینے سے گریز کرتی ہے۔ پارلیمنٹ میں جب بھی اڈانی کا ذکر ہوتا ہے تو حکومت دفاعی موقف اختیار کر لیتی ہے۔

  14. جمہوریت میں جوابدہی ضروری ہے اور حکومت اس سے بچ نہیں سکتی۔ کانگریس ایپسٹین و اڈانی سے متعلق معاملوں کو چھوڑنے والی نہیں ہے اور مسلسل سوال اٹھاتی رہے گی۔

  15. یو ڈی ایف اور کانگریس کارکنان نے مشکل حالات میں جدوجہد کیا ہے اور قربانیاں دی ہیں۔ لیفٹ فرنٹ کے خلاف لڑتے ہوئے کارکنان نے ہمیشہ پارٹی کا پرچم بلند رکھا۔ میں ہر کارکن پر فخر محسوس کرتا ہوں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...