
خالد جاوید کے نئے ناول اِکیس ایک سو بائیس کا سرورق
اگرچہ مجھے معلوم ہے کہ کسی کتاب کا پیش لفظ پڑھنے میں کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے، پھر بھی میری بُری عادتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میں اس زمانے میں بھی اپنی کتابوں کا پیش لفظ لکھا کرتا ہوں (کتاب لکھنا بھی ایک بُری عادت ہی ہے)۔ یہ موت کی پانچویں کتاب ہے، یعنی پنجہ مکمل ہوا اور انگوٹھے اور شہادت کی انگلی نے مل کر پورے پنجے سے ہی اپنے دستخط ثبت کر دیے۔ کچھ باتوں کی تکرار بھی ہو گئی۔ تکرار بُری چیز نہیں ہے۔
کسی حقیقت کا انکشاف ہونے کے بعد بار بار اس کو دہرانا بھی ضروری ہے اور یہی بات ’جھوٹ‘ کے بارے میں بھی سچ ہے۔ لکھنا میرے لیے کسی جمالیاتی مسرت یا سطحی خوشی کا سبب کبھی نہیں بنا۔ یہ ایک قدِ آدم زخم کو بار بار کریدنے کی طرح ہے۔ ایسا زخم جس کا منہ وجود کے اندھیروں میں کھلتا ہے۔ دراصل لت اسی کو کہتے ہیں۔
کچھ لوگوں کو ناخن دانتوں سے چبانے کی لت ہوتی ہے، کچھ کو بے وجہ پیر ہلانے کی اور کچھ کی تو بار بار ناک میں انگلی ڈالنے کی گھناؤنی لت۔ میری لت شاید وجود کے گھنے اندھیروں میں خاموشی سے زخم پر اگتے ہوئے کھرنڈ کو نوچتے رہنے کی ہے۔

مجھے نہیں معلوم کہ زخم پر اگ آئے اس مہربان کھرنڈ سے میری کیا دشمنی ہے۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ لکھنا پتھر پر ناخن سے خراشیں ڈالنے جیسا ہے مگر دراصل یہ پتھر ہے کہاں؟ دیانوسس دیو مالا میں (جس کے بارے میں نطشے نے بہت بصیرت آمیز باتیں لکھی ہیں)۔
دیانوسس وہ ہے جو دو بار پیدا ہوا ہے اور یہ دونوں جنم ایک ساتھ اس کے وجود میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ آج ہم جب ’ دوسرے‘ یعنی ’اَدر ‘ کے بارے میں اتنی لن ترانیاں سن رہے ہیں وہ دیانوسس اَدر کے نظریے کے بغیر ادھوری ہیں۔
چاہے ’اَدر‘ کا سیاسی پہلو ہو، معاشی یا سماجی پہلو ہو۔ اَدر کا نفسیاتی پہلو بھی اسی دوئی سے مستعار ہے۔ خیر اس تفصیل میں جانے کا کوئی موقع نہیں۔ بات یہ ہے کہ آخر وہ پتھر ہے کہاں؟ ڈیموکریٹس نے لکھا تھا؛
اپنا پتھر خود چنو۔ وہ جو آگ کے قریب ہے۔ یہ پتھر ہی ہمارا اندرونی دوست ہے۔
میرے لیے لکھنا اس اندرونی دوست سے ایک مکالمے کی ناکام تکلیف دہ کوشش بھی ہو سکتا ہے۔ بقول کارل ینگ یہ اندرونی دوست ہمیشہ ایک دشمن محسوس ہوتا ہے جس سے کوئی مکالمہ کرنا اس لیے اور بھی مشکل ہے کہ اس کی آواز بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور ڈیموکریٹس نے اسی لیے کہا تھا کہ وہ آگ کے قریب ہے۔ آگ کے قریب ہونے کی وجہ سے اس کی آواز سچی ہے۔
تو شاید میرا پتھر یہی میرا اَدر ہے جس کی آواز نہ سننے کی وجہ سے میں آگ کے قریب رکھے اس گرم پتھر پر ناخن سے خراشیں ڈالتا رہتا ہوں۔
پتا نہیں یہ میرا اَدر یہ ہرمس مرکیوریس کب مجھ پر ترس کھائے گا۔ کیونکہ میں کوئی ولی نہیں اور وہ صرف ولیوں پر مہربان ہے۔ تو لکھنے والا کیا کرے، وہ نہ اِدھر کا ہے نہ اُدھر کا۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ لکھنا ایک تکلیف دہ عمل ہے۔ ایک بھیانک گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اچانک اکیلا ہو جانا اور کسی وحشی اداس جانور کی طرح پتھر پر ناخنوں اور پنجوں سے لکیریں ڈالنا۔
خالد جاوید کے اس ناول کو بک کارنر، جہلم پاکستان نے شائع کیا ہے۔
مگر پڑھنا کیا ہے؟ کیا وہ لکھنے سے کم تکلیف دہ ہے۔ ممکن ہے کہ وہ ہو یا نہ ہو مگر میرے لیے وہ ایک بےحد سنجیدہ عمل کا نام ہے اور کچھ کچھ تکلیف دہ بھی۔ وہ کسی آرٹ گیلری میں تصویروں کی نمائش دیکھنے، کسی کنسرٹ کا ٹکٹ لینے، کوئی رقص دیکھنے، قوالی سننے اور فلم دیکھنے سے یکسر مختلف ہے۔
ہر بڑے ادیب کی کتاب ایک ایسا کمرہ ہے جس کے دروازے پر دھول سے اٹا ہوا زنگ آلود تالا لٹک رہاہے۔ کہیں سے بھی ہو، کیسے بھی ہو، مجھے اس تالے کی چابیاں بنوانا ہیں۔ یہ آسان کام نہیں ہے۔ یہ تفریح نہیں ہے۔ یہ تفریح سے قطعاً الٹ ہے۔ یقیناً بعض کتابیں تفریح کے لیے بھی پڑھی جاتی ہیں۔ یہ کتابیں ان کمروں کی طرح ہیں جن کے دروازے اور کھڑکیاں ہمیشہ باہر سے کھلے رہتے ہیں اور ہم آسانی سے ان میں چہل قدمی کر سکتے ہیں۔
مگر ہر کتاب نہیں، ہرگز نہیں۔ ہر چیز اس ترازو میں نہیں تولی جا سکتی جس میں ٹماٹر اور پیاز تولے جاتے ہیں۔ مگر آج زیادہ تر جو پڑھنے والے ہیں، وہ تفریح کے لیے بھی نہیں پڑھتے، کیونکہ تفریح کے اب دوسرے بڑے اور طاقتور ذرائع وجود میں آ چکے ہیں۔ جب موبائل پر سینکڑوں کی تعداد میں پورنوسائٹس موجود ہیں تو کون بےوقوف ہو گا جو اس فحش تفریح کے لیے وہی وہانوی اور مست رام کو پڑھے گا۔
حال ہی میں ادب کا نوبیل انعام پانے والے ہنگری کے ادیب لاسلو کراسنا ہورکائی نے لکھا ہے؛
Devices are not dangerous for literature. People can be dangerous for literature. People, for example, who do not read
مجھے بھی ان لوگوں سے کوئی شکایت نہیں ہے جو میری تحریروں کو پسند نہیں کرتے یا انھیں نہیں پڑھتے۔ مجھے ان لوگوں سے شکایت ہے جو پڑھتے ہی نہیں۔ کسی بھی سنجیدہ کتاب کو نہیں پڑھتے۔ یہ وہ ہیں جو قاری نہیں ہیں، صارف ہیں۔ یہ ادب اس طرح پڑھتے ہیں جیسے چاٹ کے ٹھیلے پر کھڑے ہو کر گول گپّے کھاتے ہیں اور گول گپّوں کے علاوہ ہر چیز ان کی ہی زبان میں ’ ان کے سر پر سے گزر جاتی ہے۔‘
لیکن سوال یہ ہے کہ مجھے فکشن لکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ مشہور قاری اساس ناقد وولف گانگ آئسر نے لکھا ہے؛
ہم دنیا میں اپنے ہونے کا شعور رکھتے ہیں، مگر ساتھ ہی ہم اپنے آپ کو پا لینے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ اسی لیے ہمیں فکشن کی ضرورت پڑتی ہے۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں ہمیں مکمل یقین ہے۔ مثلاً ہم پیدا ہوئے ہیں، ہم مَر جائیں گے۔ مگر ان وارداتوں کا ہمیں کوئی تجربہ نہیں ہے۔ نہ ہی ان کے بارے میں کوئی علم ہے۔ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس بارے میں کسی شک کی گنجائش نہیں کہ ’ہم‘ ہیں یا ہمارا ’وجود‘ ہے۔ مگر ہم نہیں جانتے کہ ’وجود‘ کیا ہے؟
اگر ہم مذہبی یا دین دار ہیں تو مذہب کی روشنی میں اپنے ’وجود‘ کی تاویلیں پیش کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم مذہبی نہیں ہیں تو ’وجود‘ کی اس لاعلمی سے مطمئن نہیں ہو سکتے اور اسی لیے ہمیں فکشن لکھنا ہی پڑتا ہے، کیونکہ فکشن ان سب چیزوں کے بارے میں ہے، جنھیں علم سے بے دخل کر دیا جاتا ہے۔
بات یہ ہے کہ میری کوئی بھی تحریر ان معنوں میں خالص ’ ادبی‘تحریر نہیں ہے جس میں شعری اور ادبی لوازمات مل کر اسے علمی اور تہذیبی روایت سے الگ کر کے ایک ’ بیگانے جزیرے‘کا مقام عطا کرتے ہیں۔ میرا تخلیقی شعور محض ادب کے علاوہ دوسری اشیا کے شعور سے بھی منعکس ہوتا ہے اور یہ اس لیے بھی کہ میں فکشن لکھتا ہوں۔ فکشن لکھنے کی شرائط مختلف ہیں اور اسے پڑھنے کی بھی۔
فکشن کی زبان ایک طرح کے مراقبے سے مماثل ہے جو اس دوری کو ختم کرنے کی سعی کرتی ہے جو زبان اور حقیقت کے درمیان ہوتی ہے۔ 1993ء میں ایلن لائٹ مین کا ایک ناول شائع ہوا تھا، جس کا عنوان ’آئن سٹائن کا خواب‘تھا۔ اس ناول میں ابدیت پر کچھ سطریں لکھی گئی تھیں۔
ان سطروں میں کہا گیا تھا کہ لامحدود زندگی کے ساتھ لامحدود رشتےداروں کی فہرست ساتھ آتی ہے۔ دادا، دادی، نانا، نانی اور ان کے بھی شجرے کبھی نہیں مَرتے۔ وہ سب واپس آتے ہیں۔ گزشتہ نسلوں کے رشتے دار ہمیں زندہ مشورے دیتے ہوئے ہمارے ساتھ چلتے ہیں۔ ابدیت اور لافانیت کی یہی قسمت ہے کہ بیٹے کبھی آزاد نہیں ہوتے، باپوں کی پرچھائیوں سے، اور بیٹیاں اپنی ماؤں سے۔ کوئی انسان، کوئی شخص پورا نہیں۔ کوئی آزاد نہیں۔
اس کتاب کو لکھنے کے دوران میں نے ہر اس شے کو محسوس کیا جو انسان سے متعلق تھی اور میں نے ان تمام قدیم متون اور اشیا کو ایسے یاد کیا جیسے کوئی اپنے پُرکھوں کو یاد کرتا ہے، جب پُرکھے بےچین ہو کر اسے یاد کرتے ہیں اور تب واضح طور پر مجھے اجتماعی لاشعور اور آرکی ٹائپس یا نسلی کھائیوں کی پُراسرار موجودگی کا شدت سے احساس ہوا۔






