آپ کی تھالی کتنی محفوظ؟ کھانے میں ملاوٹ کے معاملے بڑھنے کے باوجود لائسنس رد کرنے کی کارروائی 60 فیصد گھٹی

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 24, 2026360 Views


ملک بھر میں لاکھوں خوراک کے نمونوں کی جانچ کے باوجود لائسنس رد کرنے جیسے سخت اقدامات میں گراوٹ کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خلاف ورزیاں مسلسل سامنے آ رہی ہیں، لیکن کارروائی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اس سے غذائی تحفظ کے نظام کی افادیت اور صارفین کے تحفظ پر سنگین سوال کھڑے ہوتے ہیں۔

کینوا اے آئی کی مدد سے تیارکی گئی علامتی تصویر۔

نئی دہلی: فروری 2026 میں آندھرا پردیش کے ایسٹ گوداوری ضلع میں اچانک کچھ لوگوں کو قے، پیٹ درد، پیشاب نہ آنے اور گردوں سے متعلق پریشانیاں شروع ہوگئیں۔ جب کڈنی فیل ہونے کی شدید علامات والے کئی مریض سامنے آئے تو صحت کے حکام نے جانچ شروع کی۔ 16 فروری سے 21 مارچ کے درمیان ان علامات کے ساتھ کل 20 افراد مختلف اسپتالوں میں بھرتی ہوئے، جن میں سے 16 کو نہیں بچایا جا سکا، تین کا علاج جاری ہے اور ایک کو صحت یاب ہونے کے بعد چھٹی دے دی گئی۔

ان مریضوں میں بزرگ اور بچے بھی شامل تھے، جن میں سے کئی کو ڈائلیسس اور وینٹی لیٹر سپورٹ کی ضرورت پڑی تھی۔

گزشتہ اتوار (22 مارچ) کو جاری ایک سرکاری پریس ریلیز میں لیب جانچ کے نتائج شیئر کیے گئے، جن کے مطابق ان 16 مریضوں کی موت ملاوٹی دودھ پینے سے ہوئی، جس میں’ایتھلین گلائکول‘ نامی زہریلا مادہ ملا ہوا تھا۔ آلودہ دودھ پینے کے نتیجے میں ان کے گردے شدید متاثر ہوئے اور بالآخر کئی اعضا نے کام کرنا بند کر دیا۔

اس سے پہلے 14 مارچ کو راجستھان کے دارالحکومت جئے پور سے 1.5 لاکھ کلوگرام ایکسپائرڈ پیکڈ غذائی اجناس ضبط کی گئی تھیں۔ ان میں نوڈلز، ساس اور مایونیز شامل تھے۔ تحقیقات کے دوران ایسے آلات بھی ملے جن سے پیکج کی ایکسپائری تاریخ بدل کر پرانے سامان کو دوبارہ بازار میں فروخت کیا جا رہا تھا۔

رواں مہینے کے آغاز میں الگ -الگ چھاپوں کے دوران حیدرآباد کمشنر کی ٹاسک فورس نے ایک ٹن سے زائد ملاوٹی ادرک-لہسن پیسٹ اور سینکڑوں کلو گلے سڑے بکری اور بھیڑ کے اعضا ضبط کیے تھے۔

گزشتہ ماہ جھارکھنڈ کے پلامو میں ایک میلے میں مشتبہ ملاوٹی کھانا کھانے سے کم از کم 175 افراد، جن میں اکثر بچے تھے، بیمار ہو گئے۔

یہ چند مثالیں محض ہیں، جو عام لوگوں کی کھانے کی تھالی کے تحفظ پر سنگین سوال اٹھاتی ہیں۔ نقلی پنیر، ملاوٹی شہد، آلودہ دودھ اور غلط لیبل والے اشیائے خوردونوش کی خبروں سے انٹرنیٹ بھرا ہوا ہے۔ درمیان میں غذائی تحفظ اور معیارات کا ریگولیٹری ادارہ بھارتی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی (ایف ایس ایس آئی) کی محدود کارروائیاں بھی سرخیوں میں آتی ہیں، لیکن غیر محفوظ خوراک کا بازار چلتا رہتا ہے۔

گزشتہ13مارچ کو لوک سبھا میں وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے دیے گئے ایک جواب کے مطابق، گزشتہ تین برسوں میں ملک بھر میں لاکھوں غذائی نمونوں کی جانچ کی گئی، لیکن اس کے مقابلے میں لائسنس رد کرنے جیسے سخت اقدامات انتہائی محدود رہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2022-23 سے 2024-25 کے درمیان مجموعی طور پر 5.18 لاکھ نمونوں کی جانچ کی گئی۔ ہر سال تقریباً 1.7 لاکھ نمونوں کی جانچ ہو رہی ہے۔

سال2022-23میں: 1.77 لاکھ

سال2023-24میں: 1.70 لاکھ

سال2024-25میں: 1.70 لاکھ

یعنی نگرانی کا دائرہ وسیع ہے اور جانچ کے اعداد تقریباً مستحکم ہیں۔ اس کے باوجود، لائسنس منسوخ کرنے کے معاملوں کی تعداد سینکڑوں تک محدود ہے اور حالیہ برسوں میں اس میں نمایاں گراوٹ کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔

سال2022-23میں جہاں 500 سے زائد لائسنس رد کیے گئے تھے، وہیں 2024-25 میں یہ تعداد گھٹ کر تقریباً 200 رہ گئی۔ اس کے برعکس 2022-23 کے مقابلے میں 2024-25 میں سزا اور جرمانے کے ساتھ نمٹائے گئے معاملات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ خوراک میں ملاوٹ کے معاملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

تین برسوں میں آدھے ہو گئے ہیں لائسنس رد کرنے کے معاملے

سال2022-23-  533 معاملے

سال2023-24 -408 معاملے

سال2024-25 –  220معاملے

سزا اور جرمانے کے ساتھ نمٹائے گئے معاملے

سال2022-23، فوجداری معاملے/سزائیں- 1188،دیوانی معاملے/جرمانے سے نمٹائے گئے معاملوں کی تعداد- 28464

سال2024-25، فوجداری معاملے/سزائیں- 1265،دیوانی معاملے/جرمانے سے نمٹائے گئے معاملوں کی تعداد- 30142

یہ رجحان اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ جب خلاف ورزیوں کی نشاندہی مسلسل ہو رہی ہے تو سخت کارروائی میں اضافہ کیوں نہیں ہو رہا؟ اور کیا صرف جرمانے پر مبنی نظام خلاف ورزیوں کو روکنے میں ناکام ہے؟

ان سوالوں کے جواب کے لیے اس رپورٹر نے انڈین فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی  سے رابطہ کیا ہے، لیکن خبر شائع ہونے تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ جواب موصول ہونے پر اس خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

تاہم، مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ غذائی تحفظ کے قانون کا نفاذ مرکز اور ریاستوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یعنی مرکز کا کام معیارات طے کرنا اور قانون بنانا ہے، جبکہ ان معیارات پر عملدرآمد اور غذائی تحفظ کا نظام قائم کرنا ریاستوں کی ذمہ داری ہے، جس کے تحت فوڈ کنٹرولر، فوڈ انسپکٹر اور فوڈ سیفٹی افسران مقرر کیے جاتے ہیں۔

کن ریاستوں میں سب سے زیادہ خلاف ورزیاں؟

ریاستی لحاظ سے اعداد و شمار میں عدم توازن واضح ہے۔ اتر پردیش جیسے بڑے صوبے میں 2024-25 کے دوران 30 ہزار سے زائد نمونوں کی جانچ کی گئی اور تقریباً 15 ہزار معاملوں میں خلاف ورزیاں درج ہوئیں، لیکن لائسنس منسوخی کی کارروائی محض 16 معاملوں تک محدود رہی۔

راجستھان اور مدھیہ پردیش میں بھی ہزاروں معاملوں کے باوجود لائسنس رد کرنے کے معاملے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔

جنوبی ہندوستان کی ریاستوں میں تصویر کچھ مختلف ضرور نظر آتی ہے، جہاں مجرمانہ معاملات کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے۔ تمل ناڈو اور کیرالہ میں سینکڑوں فوجداری مقدمات درج ہوئے ہیں، لیکن وہاں بھی آخری سزا دینے والی کارروائیاں محدود ہی دکھائی دیتی ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کے تحت معائنہ، سیمپلنگ اور نفاذ کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور خلاف ورزی پائے جانے پر جرمانہ، نوٹس یا دیگر ضابطہ جاتی کارروائی کی جاتی ہے۔ تاہم، دستیاب اعداد و شمار یہ اشارہ دیتے ہیں کہ زیادہ تر معاملوں میں کارروائی جرمانے یا وارننگ تک ہی محدود رہ جاتی ہے، جبکہ لائسنس منسوخ کرنے جیسے سخت اقدامات بہت کم کیے جاتے ہیں۔

مجموعی طور پر، اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ خوراک کے تحفظ کے حوالے سے نگرانی تو وسیع ہے، لیکن سخت کارروائی کی کمی اس نظام کی افادیت  پر سوال اٹھاتی ہے۔

کیا خاطر خواہ  کارروائی ہو رہی ہے؟

ایسے میں یہ تشویش فطری ہے کہ کیا موجودہ نظام صارفین کو محفوظ خوراک فراہم کرنے میں واقعی مؤثر ہے یا پھر یہ صرف رسمی نگرانی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ عوامی مفاد میں غذائیت کی پالیسی کی وکالت کرنے والے تھنک ٹینک ’نیوٹریشن ایڈووکیسی فار پبلک انٹریسٹ‘کی رکن اور پبلک ہیلتھ پروفیشنل ڈاکٹر وندنا پرساد ہندوستان کے موجودہ ریگولیٹری نظام کو کمزور قرار دیتی ہیں۔

دی وائر سے بات چیت میں وہ کہتی ہیں،’خوراک کے شعبے کا بڑا حصہ غیر منظم ہونے کی وجہ سے ملاوٹ یا آلودگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ لیکن ہمارا موجودہ ریگولیٹری نظام کمزور ہے، اور اسی وجہ سے یہ عوامی صحت کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔‘

سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سخت کارروائیوں میں کمی آئی ہے، جبکہ ڈاکٹر وندنا کا ماننا ہے کہ سنگین معاملوں میں سخت کارروائی بہت ضروری ہے۔

وہ کہتی ہیں،’کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ (ایڈلٹریشن) زیادہ تر منافع کے لیے کی جاتی ہے۔‘ وہ واضح کرتی ہیں کہ یہاں ہم ہلکی ملاوٹ جیسے دودھ میں پانی ملانے کی بات نہیں کر رہے، بلکہ خوراک میں کیمیکلز اور دیگر نقصاندہ عناصر کی خطرناک ملاوٹ کی بات کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر وندنا کے مطابق، ایسے معاملوں میں سخت کارروائی نہایت ضروری ہے تاکہ ایک مثال قائم ہو اور دوسرے لوگ ایسا کرنے سے ڈریں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریگولیٹری نظام کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ موجودہ نظام کافی ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مؤثر کنٹرول تبھی ممکن ہے جب مجرموں کو پکڑا جائے اور ٹھوس نگرانی سسٹم کام کرے۔

اس مسئلے کو پارلیامنٹ میں اٹھانے والے گنگا نگر سے رکن پارلیامنٹ کلدیپ اندورا نے دی وائر سےبات چیت میں کہا کہ حکومت کے اپنے اعداد و شمار ہی غذائی تحفظ کے نظام کی کمزوری ظاہر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا،’اعداد و شمار سے صاف ہے کہ خلاف ورزیاں تو ہو رہی ہیں، لیکن کارروائی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی اور حکومت کی یہ نرمی ملاوٹ کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دینے کے مترادف ہے۔ آج حالات یہ ہیں کہ لوگ قانون شکنی کرتے ہیں اور پکڑے جانے پر بھی معمولی جرمانہ دے کر بچ نکلتے ہیں۔‘

انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ ملاوٹ شدہ اور ناقص خوراک عام لوگوں کی پلیٹ تک پہنچ رہی ہے، جو’دھیمے زہر‘کی طرح کام کر رہی ہے۔ اندورا نے کہا،’اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو صرف کاغذی کارروائی نہیں بلکہ سخت اور مؤثر سزائیں یقینی بنانی ہوں گی، ورنہ موجودہ نظام ملاوٹ کرنے والوں کے لیے’نو فیئر ریجیم ‘ بن چکا ہے۔‘

جانچ کی تعداد اور زیادہ ہو سکتی ہے!

پچھلے تین برسوں سے نمونوں کی جانچ کی تعداد تقریباً 1.7 لاکھ کے آس پاس رہی ہے، لیکن یہ اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر وندنا کے مطابق، جو معاملے پکڑے جاتے ہیں وہ کل ملاوٹ کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہیں۔ ضرورت کے مطابق جتنی جانچ اور کارروائی ہونی چاہیے، وہ نہیں ہو پا رہی۔ اس کی بنیادی وجہ انسانی وسائل کی کمی اور لیبارٹریوں کی ناکافی تعداد ہے۔

دی وائر میں شائع دی نالج کمپنی کے سینئر پارٹنر انکور بسین کے ایک مضمون کے مطابق، 2025 میں ہندوستان میں پیکجڈ فوڈ اور فوڈ سروس کا کل استعمال 16 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ اور ادویات کی کھپت تقریباً 3 لاکھ کروڑ روپے رہی۔ یہ ملک بھر میں پھیلے 2 کروڑ سے زیادہ فروخت مراکز کے ذریعے ہوا۔ لیکن نگرانی کے لیے 8,000 سے بھی کم فوڈ سیفٹی افسران ہیں، یعنی ہر افسر کے ذمہ اوسطاً 2,500 سے زیادہ دکانیں ہیں۔

اکثر ریاستوں میں 25فیصد سے 90فیصدتک خالی آسامیوں کی وجہ سے کسی بھی فروخت مرکز پر فوڈ انسپکٹر کے پہنچنے کا امکان تقریباً تین سال میں ایک بار ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، مہاراشٹر میں 1,100 افسران کی ضرورت تھی، لیکن صرف 130 فعال تھے۔

لیبارٹریوں کا بھی کچھ یہی حال ہے۔ اس وقت ایف ایس ایس اے آئی سے منظور شدہ 200 سے کچھ زیادہ لیبارٹریاں ہیں، جن پر پورے ہندوستان کے تقریباً 800 اضلاع، 5,000 سے زیادہ قصبوں اور 6.4 لاکھ گاؤں کو کور کرنے کی ذمہ داری ہے۔

اس دوران یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ مرکزی حکومت ایف ایس ایس اے آئی کی جانب سے جاری کیے گئے رجسٹریشن اور لائسنس کی میعاد کو مستقل بنانے والی ہے۔ پہلے کاروباریوں کو اپنے رجسٹریشن اور لائسنس وقتاً فوقتاً تجدید کرانے پڑتے تھے۔ اب نئے نظام کے تحت یہ ہمیشہ کے لیے کارآمد رہیں گے، جس سے بار بار تجدید کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

ایف ایس ایس اے آئی کی صورتحال

ایف ایس ایس اے آئی نے اپنی آخری سالانہ رپورٹ (2023-24) میں بتایا کہ 824 منظور شدہ عہدوں میں سے صرف 594 پر ہی تقرری ہوئی ہے، یعنی تقریباً 28فیصد عہدے خالی ہیں۔

اس دوران بجٹ میں بھی کمی جاری ہے۔ مالی سال 2024-25 میں ریگولیٹری ادارے کے لیے 620 کروڑ روپے کا بجٹ مقرر کیا گیا تھا، لیکن حقیقت میں صرف 520 کروڑ روپے ہی جاری کیے گئے۔ اگلے سال 2025-26 میں بجٹ مزید کم کر کے 525 کروڑ روپے کر دیا گیا۔

آبادی کے لحاظ سے ہندوستان امریکہ سے تقریباً چار گنا بڑا ہے، پھر بھی غذائی تحفظ پر خرچ بہت کم ہے۔ امریکہ اپنے بجٹ کا تقریباً 0.2فیصد اس شعبے پر خرچ کرتا ہے، جبکہ ہندوستان میں یہ صرف 0.02فیصدکے آس پاس ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...