
نریندر مودی نے کہا کہ یہ بحران تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اور اس نے ہندوستان کے سامنے کئی غیر متوقع چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ چیلنجز صرف اقتصادی نوعیت کے نہیں بلکہ قومی سلامتی اور انسانی پہلوؤں سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مغربی ایشیا وہ خطہ ہے جہاں سے ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ حاصل کرتا ہے، اس لیے وہاں کی کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر ملک کی سپلائی چین پر پڑتا ہے۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث تیل اور گیس کی درآمدات متاثر ہوئی ہیں، تاہم حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اس وقت 41 ممالک سے توانائی کی درآمد کرتا ہے اور موجودہ حالات کے پیش نظر مزید متبادل ذرائع پر بھی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ سپلائی میں تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔






