غزہ نسل کشی معاملے میں جرمنی نے اسرائیل سے حمایت واپس لی

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 20, 2026359 Views


امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوا ایران تنازعہ اکیسویں دن اور سنگین ہو گیا ہے۔ جوابی حملوں، توانائی کے مراکز پر حملوں اور کویت تک پھیلتے اثرات کے درمیان جرمنی نے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کر لیا ہے، جبکہ امریکہ جنگ کے لیے بھاری اضافی فنڈ کی تیاری میں ہے۔

ویسٹ بینک کے شہر ہیبرون کے قریب واقع بیت عوا گاؤں میں ایک بیوٹی سیلون پر ایرانی حملے کے بعد ملبے میں خون سے لت پت ایک جوتا ۔ یہ حملہ 19 مارچ 2026 کو ہوا تھا۔ (تصویر: اے پی/محمود الیان)

نئی دہلی: امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد شروع ہونے والا تنازعہ جمعہ، 20 مارچ کو اکیسویں دن میں داخل ہو گیا۔ ایران کی طرف سے بھی جوابی کارروائی جاری ہے اور خطے میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

ایران نے قطر میں واقع راس لفان گیس تنصیب پر حملہ کیا، جسے اسرائیل کی جانب سے ساؤتھ پارس گیس فیلڈز پر کیے گئے حملے کے جواب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس حملے کے بعد ایران کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) برآمدی صلاحیت پر اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس دوران ایک اہم سفارتی پیش رفت میں جرمنی نے غزہ میں مبینہ نسل کشی کے معاملے میں بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیل کی حمایت سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ یہ تبدیلی خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ 2023 میں جب جنوبی افریقہ نے یہ معاملہ اٹھایا تھا، تب جرمنی اسرائیل کے ساتھ کھڑا تھا۔

ادھر، اسرائیل نے جمعہ کو ایران کے دارالحکومت تہران پر ایک بار پھر حملے کیے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، صبح کے وقت تہران پر کئی فضائی حملے کیے گئے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب ایک دن پہلے ہی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل سے ایران کے قدرتی گیس کے ڈھانچے پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کو کہا تھا۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس تنازعہ پر ایک متنازعہ بیان بھی دیا۔ انہوں نے ایران پر امریکی حملوں کا موازنہ 1941 میں جاپان کے پرل ہاربر حملے سے کیا۔ واشنگٹن میں جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی سے ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ جنگ میں ‘اچانک حملہ’ اہم ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا، ‘سرپرائز کو جاپان سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔’

ادھر امریکہ کا محکمہ دفاع (پینٹاگون) ایران کے ساتھ جاری جنگ کے لیے اضافی 200 ارب ڈالر کی مانگ کر رہا ہے۔ یہ تجویز وہائٹ ہاؤس کو بھیجی گئی ہے اوریہ  منظوری کے لیے امریکی کانگریس میں پیش کی جائے گی۔ تاہم، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس رقم کی براہ راست تصدیق نہیں کی، لیکن یہ ضرور کہا کہ ‘دشمنوں کو ختم کرنے کے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے’ اور اس کے لیے کانگریس سے فنڈنگ حاصل کی جائے گی۔

وہیں، کویت میں بھی حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ کویت پیٹرولیم کارپوریشن کی مینا الاحمدی ریفائنری پر جمعہ کی صبح ڈرون کے ذریعے کئی حملے کیے گئے۔ ان حملوں کے بعد ریفائنری کے کچھ حصوں میں آگ لگ گئی اور کئی یونٹس کو بند کرنا پڑا۔ تاہم، اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ موقع پر فوری طور پر فائر بریگیڈ اور ہنگامی خدمات کو تعینات کر دیا گیا۔

مغربی ایشیا میں مسلسل بڑھتے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے درمیان حالات تیزی سے پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، جس کا اثر عالمی توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی سیاست پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...