اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمود آباد کو ’آپریشن سندور‘ سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ پر ہریانہ میں درج مقدمے میں بڑی راحت مل گئی ہے۔ پیر (16 مارچ) کو ہریانہ حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس نے اشوکا یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیرسر علی خان محمودآباد کے خلاف کیس بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی علی خان کی عرضی پر سماعت بند کر دی ہے۔ عدالت نے انہیں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی طور پر کچھ لکھتے وقت سب کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے۔
چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باغچی کی بنچ کے سامنے ہریانہ حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکومت نے علی خان محمودآباد کے خلاف معاملہ بند کر دیا ہے۔ گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ کو بتایا گیا تھا کہ 22 اگست 2025 کو چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے، لیکن ریاستی حکومت کی طرف سے اب تک علی خان محمودآباد کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری نہیں دی گئی ہے۔ عدالت نے اس پر ریاستی حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بڑے دل کا مظاہرہ کرے، ساتھ ہی علی خان محمودآباد سے بھی کہا تھا کہ اگر ان کے خلاف معاملہ بند ہوتا ہے تو ان سے مستقبل میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی امید کی جاتی ہے۔
عدالت نے آج کی سماعت میں علی خان محمودآباد سے کہا کہ کبھی کبھی لکھتے وقت الفاظ کے درمیان موجود پوشیدہ معانی کو سمجھنا پڑتا ہے۔ ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عرضی گزار ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہر/پروفیسر ہیں۔ جسٹس باغچی نے کہا کہ پروفیسر کو محتاط رہنا ہوگا کہ مستقبل میں کوئی ایسا معاملہ پیش نہ آئے۔
قابل ذکر ہے کہ یہ سماعت علی خان محمودآباد کی عرضی پر چل رہی تھی۔ علی خان نے گزشتہ سال مئی میں ہریانہ میں ان کے خلاف درج 2 ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کے متعلق یہ عرضی داخل کی تھی۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ان کی گرفتاری بھی ہوئی تھی۔ حالانکہ 21 مئی 2025 کو انہیں عدالت سے عبوری ضمانت مل گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے ضمانت دیتے ہوئے ان کی سخت سرزنش کی تھی۔ عدالت نے عبوری ضمانت کا حکم دیتے ہوئے ایس آئی ٹی تحقیقات کا بھی حکم دیا تھا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































