مختلف سامانوں پر مہنگائی کی مار کا درد برداشت کرنے والے لوگوں کو اب این ایچ اے آئی نے بھی جھٹکا دیا ہے۔ قومی شاہراہوں پر اکثر سفر کرنے والے گاڑی ڈرائیوروں کے لیے یکم اپریل 2026 سے سالانہ ٹول پاس مہنگا ہو جائے گا۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے سالانہ پاس فیس 3000 روپئے سے بڑھا کر 3075 روپئے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ نئی شرح مالی سال 27-2026 کے لیے نافذ العمل ہوگی۔ یہ پاس ان پرائیویٹ (غیر تجارتی) گاڑیوں کے لیے ہوتا ہے جن میں درست اور چالو ’فاس ٹیگ‘ لگا ہوتا ہے۔
نئے اصول کے مطابق 3075 روپئے کا یہ پاس ایک سال یا 200 ٹول کراسنگ کے لیے تک قابل قبول ہوگا، ان میں سے جو بھی پہلے مکمل ہوگا، وہی نافذ ہوگا۔ یعنی اگر آپ ٹول 200 بار کراس کرتے ہیں تو پاس ختم ہو جائے گا، خواہ ایک سال پورا نہ ہوا ہو۔ این ایچ اے آئی نے تمام ٹول پلازوں اور متعلقہ حکام کو یکم اپریل 2026 سے نئی شرحوں کو نافذ کرنے اور مسافروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو مطلع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت کے مطابق ٹول کی شرحوں کا سالانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اس پر نظر ثانی کی جاتی ہے اور اس عمل کے تحت اس سال سالانہ پاس کی قیمت میں قدرے اضافہ کیا گیا ہے۔
قومی شاہراہوں پر روزانہ یا کثرت سے سفر کرنے والوں کے لیے سالانہ ٹول پاس کو اب بھی ایک آسان آپشن سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس سے بار بار ٹول ادا کرنے کی پریشانی کم ہوجاتی ہے۔ قومی شاہراہ پر بار بار سفر کرنے والے گاڑ ڈرائیور آسانی سے سالانہ ٹول پاس حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت این ایچ اے آئی کی طرف سے فراہم کی جاتی ہے اور اس کے لیے گاڑی میں فعال ’فاس ٹیگ‘ ہونا ضروری ہے۔ گاڑی مالکان این ایچ اے آئی یا اپنے فاس ٹیگ جاری کرنے والے بینک/ایپ کے پورٹل پر لاگ ان کرکے سالانہ پاس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ سالانہ پاس کے لیے مقررہ فیس آن لائن ادا کی جاتی ہے۔ ادائیگی کے بعد سالانہ پاس آپ کے فاسٹ ٹیگ سے منسلک ہو جاتا ہے اور آپ اسے بغیر کسی اضافی ادائیگی کے ٹول پلازوں پر استعمال کر سکتے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































