مہاراشٹر اسمبلی میں جبراً مذہب تبدیلی کے خلاف بل پیش، 7 سال قید اور 5-1 لاکھ روپے جرمانہ کا التزام

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 13, 2026359 Views


مجوزہ قانون کے تحت ناجائز مذہب تبدیلی کے معاملوں میں ایف آئی آر مذہب تبدیل کرنے والے شخص، اس کے والدین، بھائی بہن یا دیگر رشتہ دار درج کرا سکتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیاتصویر سوشل میڈیا

i

user

مہاراشٹر اسمبلی میں جاری بجٹ اجلاس کے دوران ریاستی حکومت نے ’مہاراشٹر مذہبی آزادی ایکٹ 2026‘ سے متعلق بل ایوان میں پیش کر دیا ہے۔ یہ بل ریاست کے وزیر مملکت برائے داخلہ (دیہی) پنکج بھویر نے اسمبلی میں پیش کیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق مجوزہ قانون کا مقصد زور زبردستی، دھوکہ دہی، لالچ، غلط معلومات، دباؤ، شادی یا کسی دوسرے فریب آمیز طریقے سے مذہب تبدیل کرنے کے واقعات کو روکنا ہے۔

مجوزہ قانون کے تحت غیر قانونی مذہب تبدیلی کے معاملات میں ایف آئی آر مذہب تبدیل کرنے والے شخص، اس کے والدین، بھائی بہن یا دیگر رشتہ دار درج کرا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس کو ایسے معاملات میں از خود نوٹس لینے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ بل میں غیر قانونی مذہب تبدیلی کے لیے زیادہ سے زیادہ 7 سال قید اور 1 لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک جرمانے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ اگر مذہب تبدیلی کا معاملہ کسی نابالغ، خاتون، ذہنی طور پر معذور شخص یا درج فہرست ذات/قبائل کے فرد سے متعلق ہو، یا اجتماعی مذہب تبدیلی کا معاملہ ہو، تو اس کے لیے اس سے بھی زیادہ سخت سزا کا انتظام کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بل میں بار بار جرم کرنے والوں کو 10 سال تک قید اور 7 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اگر کسی ادارے یا تنظیم کا کردار اس طرح کے مذہب تبدیلی کے معاملے میں پایا جاتا ہے تو اس کا رجسٹریشن منسوخ کیا جا سکتا ہے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قید اور جرمانے کی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی ایسے اداروں کو ملنے والی سرکاری مالی امداد بھی بند کی جا سکتی ہے۔

بل میں رضاکارانہ طور پر مذہب تبدیل کرنے کے عمل کے لیے بھی ایک طریقہ کار طے کیا گیا ہے۔ اس کے تحت مذہب تبدیل کرنے سے پہلے متعلقہ شخص کو 60 دن پہلے مجاز اتھارٹی کو اطلاع دینی ہوگی۔ اس اطلاع کے بعد 30 دن کے اندر اعتراض درج کرایا جا سکتا ہے، جس کی بنیاد پر انتظامیہ پولیس جانچ کرا سکتی ہے۔ مذہب تبدیل کرنے کے بعد متعلقہ شخص اور اس کا اہتمام کرنے والی تنظیم کو 21 دن کے اندر حلف نامہ جمع کرانا ہوگا۔ اگر یہ عمل مکمل نہیں کیا جاتا تو مذہب تبدیلی کو کالعدم سمجھا جائے گا۔

اس کے علاوہ بل میں غیر قانونی مذہب تبدیلی کے متاثرین کی بازآبادکاری اور تحفظ کے لیے بھی انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں نان و نفقہ اور بچوں کی سرپرستی سے متعلق دفعات بھی شامل ہیں۔ اسمبلی میں بل پیش ہونے کے بعد آنے والے دنوں میں اس پر ایوان میں تفصیلی بحث ہونے کا امکان ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...