اڑیسہ میں گزشتہ دو برسوں میں 54 فرقہ وارانہ فسادات اور ماب لنچنگ کے سات معاملے سامنے آئے: وزیراعلیٰ

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 11, 2026364 Views


اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی نے اسمبلی میں بتایا کہ جون 2024 سے اب تک ریاست میں 54 فرقہ وارانہ فسادات اور ماب لنچنگ کے سات واقعات درج کیے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ 24 فرقہ وارانہ فسادات بالاسور ضلع میں درج کیے گئے، جبکہ 16 معاملات کھوردھا ضلع میں سامنے آئے۔ تاہم ان میں سے 50 فیصد سے بھی کم معاملات میں چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی / دی وائر

نئی دہلی: اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی نے سوموار کے روز اسمبلی میں بتایا کہ جون 2024 سے اب تک ریاست میں 54 فرقہ وارانہ فسادات اور 7 ماب لنچنگ کے واقعات درج کیے گئے ہیں۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، اسمبلی میں دیے گئے ایک تحریری جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سب سے زیادہ 24 فرقہ وارانہ فسادات بالاسور ضلع میں درج ہوئے، جبکہ 16 معاملات کھوردھا ضلع میں سامنے آئے، جس میں ریاستی دارالحکومت بھونیشور بھی شامل ہے۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ فسادات میں مبینہ طو رپر ملوث ہونے کے الزام میں تقریباً 300 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم ان معاملات میں 50 فیصد سے بھی معاملوں  میں چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ کھوردھا ضلع میں فرقہ وارانہ فسادات کے 16 واقعات سامنے آئے، جن میں 120 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کوراپٹ ضلع میں فسادات کے آٹھ معاملات میں پولیس نے 33 افراد کو گرفتار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکہ نگیری اور بھدرک اضلاع میں بھی فسادات کے ب چار اور دو واقعات ہوئے، جن میں 26 اور 24 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

یہ بتاتے ہوئے کہ سب سے زیادہ تین ماب لنچنگ کے واقعات رائے گڑھ ضلع میں ہوئے، جن میں 48 افراد کو گرفتار کیا گیا- ماجھی نے کہا کہ ڈھینکنال ضلع میں اس طرح کے دو واقعات ہوئے، جن میں ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ اسی طرح دیوگڑھ اور بالاسور اضلاع میں ماب لنچنگ کا ایک ایک واقعہ سامنے آیا، جن میں  چھ اور سات افراد کو گرفتار کیا گیا۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق، تاہم وزیر اعلیٰ کے جواب میں اس فرقہ وارانہ جھڑپ کا ذکر نہیں کیا گیا، جو کٹک شہر میں درگا پوجا وسرجن کے دوران ہوئی تھی۔ اکتوبر 2025 میں ہونے والے اس واقعہ کے بعد کٹک میں تقریباً تین دن تک کرفیو نافذ رہا تھا۔ یہ تشدد درگا پوجا کے وسرجن کے دوران ہونے والی جھڑپ سے شروع ہوا تھا۔ اس کے چند دن بعد وشو ہندو پریشد کے ارکان کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور توڑ پھوڑ اور آگ زنی کے واقعات بھی سامنے آئے تھے۔

اپوزیشن جماعتوں نے ریاست میں نفرت پر مبنی جرائم اور فرقہ وارانہ ٹکراؤ میں اضافے کا الزام لگاتے ہوئے حکومت پر تنقید کی۔ اس پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مختلف برادریوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے کے لیے پولیس تھانوں کے تحت امن کمیٹیوں اور مقامی انتظامیہ کی مدد سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ خفیہ جانکاری جمع  کرنے کے نظام کو مضبوط کیا گیا ہے اور معاشرے میں امن و امان کو متاثر کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔

اخبار کے مطابق، گزشتہ 20 مہینوں میں اڑیسہ کے تقریباً نصف درجن قصبوں میں فرقہ وارانہ واقعات کے باعث کرفیو لگانا پڑا اور انٹرنیٹ خدمات بھی معطل کرنی پڑیں۔ ان میں بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کی لنچنگ کے واقعات بھی شامل ہیں۔ بیشتر معاملات میں ملزمان کا تعلق دائیں بازو کی تنظیموں سے بتایا گیا ہے۔

حکام نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعض واقعات درج نہیں ہو پاتے، خصوصی طور پر اس وقت جب متاثرین یومیہ مزدور ہوتے ہیں اور پولیس کے پاس جانے سے ہچکچاتے ہیں۔

اپوزیشن نے ریاست میں ‘فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے’ کا الزام لگاتے ہوئے حکومت کو گھیر ا ہے۔ جون 2024 میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اڑیسہ میں پہلی بار اپنے بل بوتے پر حکومت بنائی تھی۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق، اڑیسہ میں فرقہ وارانہ یا مذہب کی بنیاد پر ہونے والے واقعات 2021 میں 10، 2023 میں 44 (انتخابات سے پہلے کا سال) اور 2025 میں 15 درج کیے گئے۔ جبکہ پارلیامنٹ میں وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2018 میں 9 فرقہ وارانہ واقعات ہوئے تھے، جبکہ 2019 میں کوئی بھی واقعہ درج نہیں ہوا تھا۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...