پارلیامنٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کی تیاری میں اپوزیشن

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 10, 2026363 Views


پارلیامنٹ میں جاری بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے دوران اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کی تیاری میں ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کو سپریم کورٹ کے جسٹس کی طرح پارلیامانی مواخذے کے عمل کے ذریعے عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔

17 اگست 2025 کو دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار۔ (تصویر: پی ٹی آئی/اتل یادو)

نئی دہلی: لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر ایوان میں بحث شروع ہونے سے پہلے، اپوزیشن جماعتیں پہلی بار چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کا مطالبہ کرتے ہوئے نوٹس داخل کرنے کی تیاری  میں ہیں۔

دی وائر کو موصولہ جانکاری کے مطابق، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے ایک سینئر رکن پارلیامنٹ، جو اس پوری کارروائی کی منصوبہ بندی میں سرگرم تھے، نےدی وائر کو  بتایا کہ یہ ایک  ’اجتماعی کوشش ‘ تھی اور اسے تیار کرنے میں ’دو ہفتے ‘لگے۔

قابل ذکر ہے کہ یہ نوٹس ایسے وقت میں لایا جا رہا ہے جب پارٹی کی رہنما اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ووٹر لسٹ کے  اسپیشل انٹینسیو رویژن (ایس آئی آر) کے خلاف 6 مارچ سے کولکاتہ میں دھرنے پر  ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ ممتا بنرجی ریاست میں ایس آئی آر سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ نئی دہلی آئی تھیں، جہاں انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ ٹی ایم سی گیانیش کمار کے خلاف لائی جانے والی کسی بھی مواخذے کی تحریک کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس معاملے میں سوموار (9 مارچ) کو دی وائر کو ذرائع نے بتایا کہ اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کے بعد چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کے مطالبے والا نوٹس پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

معلوم ہوکہ بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلے میں اپوزیشن کی جانب سے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا نوٹس پیش کیا گیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ وہ  ’لوک سبھا کی کارروائی کو کھلے عام جانبدارانہ انداز میں چلا رہے ہیں۔ ‘

تاہم، اس وقت ترنمول کانگریس نے شروع میں برلا کو ہٹانے کی تجویز پر دستخط نہیں کیے تھے، لیکن گزشتہ ہفتہ پارٹی نے اس کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

غورطلب  ہے کہ سوموار کو بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے آغاز پر برلا کے خلاف تحریک پر بحث نہیں ہو سکی، کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ پر بحث کے مطالبے کو لے کر دونوں ایوانوں میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی۔

اس سے پہلے دی وائر نے اگست 2025 میں رپورٹ کیا تھا کہ انڈیا بلاک کی اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر کمار کے خلاف مواخذے کا نوٹس لانے پر غور کر رہی ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں ووٹ چوری کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’عوام کو گمراہ کرنے ‘ اور ’آئین کی توہین کرنے ‘ کی کوشش قرار دیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنر (تقرری، خدمات کی شرائط اور مدت کار) ایکٹ 2023 کے مطابق، چیف الیکشن کمشنر کو ’سپریم کورٹ کے جج کی طرح یکساں عمل اور بنیادوں پر عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ ‘

ججوں کی تحقیقات سے متعلق ایکٹ 1968 کے مطابق، پارلیامنٹ کے کسی بھی ایوان میں مواخذے کا نوٹس پیش کیے جانے کے بعد سپریم کورٹ کے جج کو عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔

اگر یہ نوٹس لوک سبھا میں پیش کیا جاتا ہے تو اس پر کم از کم 100 ارکان کے دستخط ضروری ہوتے ہیں، اور اگر راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے تو کم از کم 50 ارکان پارلیامنٹ کے دستخط درکار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اسپیکر یا چیئرمین فیصلہ کرتے ہیں کہ اس تجویز کو قبول کیا جائے یا مسترد کیا جائے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...