
السٹریشن: پری پلب چکرورتی
نئی دہلی: مہاراشٹر کے پونے شہر میں بھینسوں کی غیر قانونی ڈھلائی کے الزام میں ایک مسلم ٹرک ڈرائیور کو زبردستی گوبر کھلانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ پولیس نے اس سلسلے میں اتوار (8 مارچ) کو چار خودساختہ ’گئورکشکوں‘ کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔ اس واقعہ کا ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے، جس پر کئی لوگوں نے اعتراض کیا ہے ۔
انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق، اس معاملے میں امبیگاؤں پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ جمعہ (6 مارچ) کو مبینہ گئورکشکوں کا ایک گروپ بھینسوں سے بھرے ٹرک کے ساتھ ٹرک ڈرائیور کو امبیگاؤں پولیس اسٹیشن لے آیا۔ جانچ کے بعد پولیس نے مبینہ طور پر بھینسوں کو غیر قانونی طور پر لے جانے کے الزام میں ٹرک ڈرائیور کے خلاف پریوینشن آف کرولٹی ٹو اینیملز ایکٹ (جانوروں پر ظلم کی روک تھام کا قانون) کی دفعات کے تحت معاملہ درج کیا۔
وہیں، ٹرک ڈرائیور کی شکایت کی پر پولیس نے خودساختہ گئورکشکوں کے خلاف بھی مبینہ طور پر ڈرائیور پر حملہ کرنے کے الزام میں ایک غیر قابل دست اندازی معاملہ بھی درج کیا۔
دریں اثنا اتوار (8 مارچ) کو پولیس کو ایک ویڈیو ملا، جس میں مبینہ طور پر ’گئورکشکوں‘ کو ٹرک ڈرائیور کے مذہب کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کرتے، ان کی پٹائی کرتے اور انہیں گوبر کھانے کے لیے مجبور کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس سلسلے میں پولیس نے بتایا کہ ٹرک ڈرائیور نے اپنی شکایت میں اس بات کا ذکر نہیں کیا تھا، لیکن اب ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس نے چار گئورکشکوں کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 196 (مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)، 299 (مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا)، 352 (امن وامان کو خراب کرنے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین کرنا)، 115(2) (جان بوجھ کر چوٹ پہنچانا) اور 3(5) کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔
اس معاملے پر امبیگاؤں پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر شرد جینی نے کہا،’ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور ملزمین کی تلاش جاری ہے۔ ‘
اے آئی ایم آئی ایم کے سابق ایم ایل اے وارث پٹھان نے اس واقعہ سے متعلق ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے مہاراشٹر حکومت اور مہاراشٹر پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے ایکس پر لکھا،’ہندوتوا کے غنڈے ایک مسلم نوجوان کو زبردستی گوبر کھلا رہے ہیں، اس کی پٹائی کر رہے ہیں اور اسے گالیاں دے رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں قانون اور انتظامیہ کا کوئی خوف نہیں ہے۔ کیا حکومت نے انہیں کھلی چھوٹ دے دی ہے؟ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مہاراشٹر حکومت اور مہاراشٹر پولیس ان غنڈوں کے خلاف فوری کارروائی کرے۔ ‘
हिंदुत्ववादी गुंडे एक मुस्लिम युवक को जबरन गोबर खिला रहे है उसको मार रहे है गाली बक रहे है।
कायदे क़ानून का डर ख़ौफ़ इनको ख़त्म हो गया है क्या सरकार ने खुली छूट दे रखी है???
हमारी @CMOMaharashtra @DGPMaharashtra से माँग है इन गुण्डों के ख़िलाफ़ फ़ौरन करवाई करे। https://t.co/g9PQEbALKi— Waris Pathan (@warispathan) March 7, 2026
وارث پٹھان کے علاوہ کئی دیگر لوگوں نے بھی اس معاملے میں پولیس کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس ویڈیو کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کیا ہے۔






