انسانی فطرت، عقل اور اخلاقی شعور کی روشنی میں…ایف اے مجیب

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 8, 2026359 Views


انسان کی فطرت میں انصاف کا احساس بھی بہت گہرا ہوتا ہے۔ جب وہ دنیا میں ظلم اور ناانصافی کو دیکھتا ہے تو اس کے اندر ایک فطری سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کبھی ایسا وقت آئے گا جب ہر شخص کو اس کے اعمال کا مکمل نتیجہ ملے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں بہت سے ظالم اپنے جرائم کے باوجود سزا سے بچ جاتے ہیں اور بہت سے مظلوم انصاف دیکھے بغیر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔

یہ حقیقت انسان کے اندر اس احساس کو جنم دیتی ہے کہ انسانی اعمال کا کوئی حتمی حساب بھی ہونا چاہیے۔ اسلام اسی فطری احساس کو ایک واضح تصور کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ انسان کی زندگی بے مقصد نہیں بلکہ اس کے اعمال کا ایک حتمی نتیجہ ہونا ہے۔ یہی تصور انسان کو ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔

اگر انسانی فطرت، عقل اور اخلاقی شعور کی روشنی میں اسلام کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام کسی خاص خطے یا قوم کا محدود نظریہ نہیں بلکہ ایک ایسا نظامِ فکر ہے جو انسان کی اصل ساخت کے ساتھ گہری مطابقت رکھتا ہے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...