نیویارک میں میئر ظہران ممدانی کے گھر کے باہر بم پھینکنے کی کوشش، 2 مشتبہ افراد گرفتار، پولیس تفتیش میں مصروف

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 8, 2026362 Views


’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب میئر ظہران ممدانی کی رہائش گاہ کے باہر 2 مخالف گروہوں کے درمیان شدید تصادم ہوا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>ظہران ممدانی، تصویر سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>ظہران ممدانی، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

i

user

امریکہ کے نیویارک شہر میں میئر ظہران ممدانی کی سرکاری رہائش گاہ ’گریسی مینشن‘ کے باہر ایک مشتبہ دھماکہ خیز ڈیوائس پھینکنے کی کوشش کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد پولیس نے 2 مشتبہ افراد کی شناخت کر انہیں گرفتار کر لیا۔ ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب میئر ظہران ممدانی کی رہائش گاہ کے باہر 2 مخالف گروہوں کے درمیان شدید تصادم ہوا تھا۔

نیویارک پولیس ڈپارٹمنٹ (این وائی پی ڈی) کے مطابق اس معاملے میں مجموعی طور پر 6 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب احتجاجی مظاہروں کے دوران صورت حال اچانک پرتشدد ہو گئی۔ آزاد خبر رساں ایجنسی ’فریڈم نیوز‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص نے ایک مشتبہ ڈیوائس دوسرے شخص کو دی، جس کے کچھ ہی دیر بعد پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق برآمد کی گئی ڈیوائس شیشے کے ایک جار میں بنی ہوئی تھی، جسے کالے ٹیپ سے لپیٹا گیا تھا۔ اس کے اندر نٹ، بولٹ، اسکرو اور ایک فیوز لگا ہوا تھا۔ افسران کا کہنا ہے کہ فی الحال اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ یہ واقعی دیسی ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائس (آئی ای ڈی) تھا یا صرف خوف پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا نقلی ڈیوائس۔ این وائی پی ڈی کمشنر جیسکا ایس ٹش نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ عینی شاہدین نے ہوا میں اڑتے ہوئے اس ڈیوائس سے آگ اور دھواں نکلتے دیکھا۔ ان کے مطابق یہ ڈیوائس اڑتے ہوئے ایک بیریئر سے ٹکرائی اور پولیس افسران سے چند فٹ پہلے ہی بجھ گئی۔ یہ ڈیوائس سائز میں فٹبال سے تھوڑی چھوٹی تھی اور ماہرین اس کی جانچ کر رہے ہیں۔

سی این این کے مطابق یہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب ’رائٹ ونگ انفلوئنسر‘ جیک لینگ کی جانب سے منعقدہ ایک اسلام مخالف احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں موجود مخالف مظاہرین سے جھڑپ ہو گئی۔ یہ احتجاج رمضان کے مبارک ماہ کے دوران ہو رہا تھا، جس کی وجہ سے ماحول مزید کشیدہ ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق واقعہ کی شروعات دوپہر کے بعد ہوئی جب مسلم مخالف گروپ کے ایک رکن نے مبینہ طور پر مخالف مظاہرین پر ’پیپر اسپرے‘ کا استعمال کیا۔ اس کے تقریباً 20 منٹ بعد ایک 18 سالہ مخالف احتجاجی نے ایک جلتی ہوئی ڈیوائس احتجاجی علاقے کی طرف پھینکی۔ یہ ڈیوائس ایک کراس واک پر گری۔

پولیس کے مطابق اس کے بعد وہی مشتبہ شخص ایک 19 سالہ ساتھی کے پاس گیا اور اس سے دوسرا آلہ لیا۔ اس نے اس دوسرے آلے کو بھی جلایا، لیکن جیسے ہی پولیس موقع پر پہنچی، اس نے اسے سڑک پر گرا دیا اور فرار ہونے کی کوشش کی۔ پولیس نے بعد میں ان دونوں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ واقعے کے بعد اس بات کی تصدیق کی گئی کہ میئر ظہران ممدانی اور ان کی اہلیہ راما دواج محفوظ ہیں۔ میئر کے ترجمان نے جیک لینگ کی جانب سے منعقدہ مظاہرے کو ’نفرت انگیز اور اسلامو فوبک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ان خطرات کی یاد دلاتا ہے جن کا انہیں اکثر سامنا کرنا پڑتا ہے۔

نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچُل نے کہا ہے کہ انہیں اس واقعے کی اطلاع دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست پرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتی ہے، لیکن نفرت اور تشدد کے لیے یہاں بالکل بھی جگہ نہیں ہے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ اب تک اس واقعے کا کسی بین الاقوامی تنازع سے تعلق ہونے کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔ فی الحال ماہرین اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ برآمد شدہ آلات میں کوئی توانائی پیدا کرنے والا دھماکہ خیز مواد موجود تھا یا نہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...